تمام خوبیاں اس حسن میں کشید نہیں



تمام خوبیاں اس حسن میں کشید نہیں 
سو نشہ بادِ بہاری مجھے شدید نہیں 

اس ایک بات نے کل رات سے اداس کیا 
وہ بات جو کفِ آئینہ سے بعید نہیں 

طلسمِ جسم کو پوشیدہ مت رکھو اس وقت
مری نگاہ کو اس طرح شوقِ دید نہیں 

پڑاؤ ڈال لیا تھا کہ مصلحت تھی کوئی 
اب اس جگہ پہ ٹھہرنا مجھے مزید نہیں 

یہ رمز تو نہیں جانے گا نوجواں لڑکے 
نئی شراب کسی طرح بھی مفید نہیں 

تو خامخواہ ہی بیزار کر رہا ہے مجھے 
تری گھڑی ہوئی باتوں سے مستفید نہیں

یہ کس وجہ سے نمودار ہو رہی ہیں ابھی
تجلیات کی اس وقت تو نوید نہیں 

گلے ملے بھی تو ہم کیسے ایک دوسرے کو
یہ روزِ حشر ہے اے دوست روزِ عید نہیں 

اسامہ امیر 





مصنف کے بارے میں


...

اسامہ امیر

1998 - | کراچی


اسامہ امیر شیخ 6 اپریل 1998 کو کراچی میں پیدا ہوئے میٹرک 2015 میں گڈ زون گرائمر اسکول کراچی سے کیا۔ ایف ۔ اے کے طالبِ علم ہیں شاعری کا آغاز 2014 میں کیا فیس بک پہ پاک و ہند کی نوجوان نسل کا غیر مطبوعہ کلام کے نام سے ایک پلیٹ فارم چلا رہے ہیں




Comments