اک خواب نیا پگھل رہا ہے



اک خواب نیا پگھل رہا ہے 
سورج سے دماغ جل رہا ہے 

دھیرے سے تو ہٹ رہا ہے، مجھ سے 
رستہ تو نہیں بدل رہا ہے ؟

ہاں خواب برادہ بنتے بنتے 
مٹھی سے مری پھسل رہا ہے 

شب، نشّہ زیادہ کرنے والا 
آہستہ سہی، سنبھل رہا ہے 

کیا شور مچانے والے نئیں ہیں؟ 
خاموش زمانہ چل رہا ہے 

سن،دور ہو جا نظر نہیں آ! 
نظروں کو تو میری کَھل رہا ہے 

آواز کُچل رہا ہے وہ شخص 
لہجہ بھی مرا کُچل رہا ہے 

سکّے تو نہیں عوام کے پاس 
بازار کہاں سے چل رہا ہے 

وہ رات وہیں رکی ہوئی ہے 
یہ دن ہے جو پھر نکل رہا ہے





مصنف کے بارے میں


...

اسامہ امیر

1998 - | کراچی


اسامہ امیر شیخ 6 اپریل 1998 کو کراچی میں پیدا ہوئے میٹرک 2015 میں گڈ زون گرائمر اسکول کراچی سے کیا۔ ایف ۔ اے کے طالبِ علم ہیں شاعری کا آغاز 2014 میں کیا فیس بک پہ پاک و ہند کی نوجوان نسل کا غیر مطبوعہ کلام کے نام سے ایک پلیٹ فارم چلا رہے ہیں




Comments