تمہارے شہر کا موسم بڑا سہانا لگے



تمہارے شہر کا موسم بڑا سہانا لگے

میں ایک شام چرا لوں اگر برا نہ لگے

تمہارے بس میں اگر ہے تو بھول جاو ہمیں

تمہیں بھلانے میں شاید ہمیں زمانہ لگے

جو ڈوبنا ہے تو اتنے سکون سے ڈوبو

کہ آس پاس کی لہروں کو بھی پتہ نہ لگے

اسی لیے تو کھلاے ہیں پھول صفحوں پر

ہمیں جو زخم لگے ہیں وہ دوستانہ لگے

وہ اک ستارہ کہ جو راستہ دکھاے ہمیں

وہ اک اشارہ کہ جو حرف محرمانہ لگے

نہ جانے کب سے کوی میرے ساتھ ہے قیصر

جو اجنبی نہ لگے اور آشنا نہ لگے






Comments