یہ چرچ و مندر و محراب میری جان چھوڑیں



نکچھ کرنے کے سب اسباب میری جان چھوڑیں
یہ چرچ و مندر و محراب میری جان چھوڑیں

مجھے بے ساختہ کہنے دیں، چپ رہنے دیں، بیشک!
یہ میرے خیر خواہ احباب میری جان چھوڑیں

ابھی ہنسنے دیں کھل کر جیتنے والوں سے مل کر
تھکے ہارے ہوے اعصاب میری جان چھوڑیں

بہت اک آینے میں دیکھنے دیں عکس۔مہتاب
مرے سوکھے پڑے تالاب میری جان چھوڑیں

چلیں اَڑنے دیں، اڑنے دیں انہی ٹوٹے پروں سے
یہ سارے رستم و سہراب میری جان چھوڑیں

اُدر جو تاش کو بونس میں پھینٹی لگ رہی ہے
ٹرمپ اور دوسرے نایاب میری جان چھوڑیں

نئی دنیا بنانے دیں، یہی دو چار چھے دن...
یہ ذکر۔باس و فکر۔جاب میری جان چھوڑیں

میں اس کی ڈایری میں شعر لکھنا چاہتا ہوں
یہ خالی خولی اس کے خواب میری جان چھوڑیں

انہیں تو کچھ اٹھا کر بھاگنا ہے، میرا سر درد
ٹلیں اوزان، اور اعراب میری جان چھوڑیں






مصنف کے بارے میں


...

ادریس بابر

1974 - |


گوجرانوالہ پاکستان میں پیدا ہونے والے لکھاری نے انجینئرنگ یونیورسٹی لاہور سے الیکٹریکل انجینئرنگ کی. پہلا شعری مجموعہ "یونہی" ۲۰۱۲ میں شائع ہو سکا جسے فیض احمد فیض ایوارڈ سے نوازا گیا۔ اکادمی ادبیات پاکستان کے لیے پاکستانی ادب کے سالانہ انتخاب سمیت پاکستانی نظم کا ستر سالہ انتخاب مرتب کیا. مجلس ترقی ادب لاہور کے لیے اردو غزل کے ستر سالہ انتخاب کی تدوین کی. متعدد زبانوں اور اصناف میں شاعری آور تراجم کے ساتھ ساتھ بابر نے عشرے کی صنف متعارف کرائی جسے بطور خاص جدید ترین لکھنے والوں کی نسل میں قبول عام حاصل ہوا.




Comments

  • noimage cimg

    Adab Nama

    ہم منتظر ہیں جناب