یہ سوچ! دوست دشمنان-دین کی تو خیر ہے



یہ سوچ! دوست دشمنان-دین کی تو خیر ہے
اسد کہاں ملے گا، مہ جبین کی تو خیر ہے

یہ دل اک آده ثانیے کو بهی رکا تو بس، گیا
مشین چل پڑے گی پهر، مشین کی تو خیر ہے

عبایا سبز لپ سٹک سے میچ ہونا چاہئیے
سیاہ سکارف..نیچے نیلی جین کی تو خیر ہے

تماری ڈگری رہ گئی تو گهر کی نینهہ ڈهے گئی
تمارا کیا بنے گا؟ اس حسین کی تو خیر ہے

 ہم اپنا کچه بنا تو لیں ہم اپنا گهر بچا تو لیں
عراق شام اور فلسطین کی تو خیر ہے

پرانا عربی قاعدہ ہوا نہ جس کا فائدہ
پر اب زبان سیکه لیں گے چین کی، تو خیر ہے

خدا کو مفت مشورہ دیا کل اک کسان نے
تو آسماں کی فکر کر زمین کی تو خیر ہے

 یہ سوچ کے رکو نہیں ڈرو نہیں مرو نہیں
کہ ہم بهی مارے جائیں گے سبین کی تو خیر ہے

طلائی مہریں کشتیوں پہ منتقل کرو چلو
جہاز پر کهڑے ملازمین کی تو خیر ہے

وہ اس کو چومتی ہو فلم گهومتی ہو بیڈ کے گرد
ہزار فٹ کے تین چار سین کی تو خیر ہے

ہیلو! یہ کال کاٹنے سے پہلے اک دفعہ پلیز
... ہیلو! فریحہ فاطمہ متین کی تو خیر ہے؟





مصنف کے بارے میں


...

ادریس بابر

1974 - |


گوجرانوالہ پاکستان میں پیدا ہونے والے لکھاری نے انجینئرنگ یونیورسٹی لاہور سے الیکٹریکل انجینئرنگ کی. پہلا شعری مجموعہ "یونہی" ۲۰۱۲ میں شائع ہو سکا جسے فیض احمد فیض ایوارڈ سے نوازا گیا۔ اکادمی ادبیات پاکستان کے لیے پاکستانی ادب کے سالانہ انتخاب سمیت پاکستانی نظم کا ستر سالہ انتخاب مرتب کیا. مجلس ترقی ادب لاہور کے لیے اردو غزل کے ستر سالہ انتخاب کی تدوین کی. متعدد زبانوں اور اصناف میں شاعری آور تراجم کے ساتھ ساتھ بابر نے عشرے کی صنف متعارف کرائی جسے بطور خاص جدید ترین لکھنے والوں کی نسل میں قبول عام حاصل ہوا.




Comments