ہجر لاحق ہے کہ ہجرت ہے مجھے



ہجر لاحق ہے کہ ہجرت ہے مجھے
نیند میں چلنے کی عادت ہے مجھے

میں کسی وقت بھی مر سکتا ہوں
دوست! اندر سے محبت ہے مجھے

جا ، جدائی کے سبب مت گنوا
جیسے درکار وضاحت ہے مجھے

کشتیاں خود ہی بناتا نہیں میں
ویسے دریا کی اجازت ہے مجھے

یہ بہت پہنچے ہوئے لگتے ہیں
ان درختوں سے عقیدت ہے مجھے

دھوپ سے ابر تلک، دیر ہے کچھ
پانی رنگوں کی ضرورت ہے مجھے

خود بھی کھا سکتا ہے خود کو آدم
یعنی حاصل یہ رعایت ہے مجھے





مصنف کے بارے میں


...

ادریس بابر

1974 - |


گوجرانوالہ پاکستان میں پیدا ہونے والے لکھاری نے انجینئرنگ یونیورسٹی لاہور سے الیکٹریکل انجینئرنگ کی. پہلا شعری مجموعہ "یونہی" ۲۰۱۲ میں شائع ہو سکا جسے فیض احمد فیض ایوارڈ سے نوازا گیا۔ اکادمی ادبیات پاکستان کے لیے پاکستانی ادب کے سالانہ انتخاب سمیت پاکستانی نظم کا ستر سالہ انتخاب مرتب کیا. مجلس ترقی ادب لاہور کے لیے اردو غزل کے ستر سالہ انتخاب کی تدوین کی. متعدد زبانوں اور اصناف میں شاعری آور تراجم کے ساتھ ساتھ بابر نے عشرے کی صنف متعارف کرائی جسے بطور خاص جدید ترین لکھنے والوں کی نسل میں قبول عام حاصل ہوا.




Comments