نظر ملاو، ابھی سے شراب چھوڑ دیں ہم!



نئے برس سے بھی پہلے، جناب! چھوڑ دیں ہم
نظر ملاو، ابھی سے شراب چھوڑ دیں ہم!

قسم غزل کی! اگر وہ غزال ہاتھ آ جائے
ازل سے در بہ دری کا حساب چھوڑ دیں ہم

یہ کون اندھے کنویں سے پلٹ کے پوچھتا ہے
تجھے یہیں پہ نہ خانہ خراب چھوڑ دیں ہم

معاملات پروفائلوں سے آگے بڑھیں
کہ سرورق ہی تکیں بس، کتاب چھوڑ دیں ہم

سوال یہ کوئی ہم سے سوال پوچھے کیوں
جواب یہ کہ ۔۔۔ ادھورا جواب چھوڑ دیں ہم

وہ جس کو خواب میں ہم دیکھ کر بڑے خوش ہیں
جگائے، اور ادھورا ہی خواب چھوڑ دیں ہم

کلر سکیم بدل دیں چمن میں، اس کے لیے
سیاہ ٹہنیاں، پیلے گلاب چھوڑ دیں ہم

یہ سوچ کر کہ کسی سے کسی کی بنتی نہیں
خدا سے، خلق سے، خود سے خطاب چھوڑ دیں ہم؟

تو بھوکا مرنے دیں سولہ کروڑ لوگوں کو
تو پیاس بیاس میں، سوکھا چناب چھوڑ دیں ہم

اگر چہ باس سے بیس اختلاف چل رہے ہیں
یہ وقت ایسا نہیں ہے کہ جاب چھوڑ دیں ہم






مصنف کے بارے میں


...

ادریس بابر

1974 - |


گوجرانوالہ پاکستان میں پیدا ہونے والے لکھاری نے انجینئرنگ یونیورسٹی لاہور سے الیکٹریکل انجینئرنگ کی. پہلا شعری مجموعہ "یونہی" ۲۰۱۲ میں شائع ہو سکا جسے فیض احمد فیض ایوارڈ سے نوازا گیا۔ اکادمی ادبیات پاکستان کے لیے پاکستانی ادب کے سالانہ انتخاب سمیت پاکستانی نظم کا ستر سالہ انتخاب مرتب کیا. مجلس ترقی ادب لاہور کے لیے اردو غزل کے ستر سالہ انتخاب کی تدوین کی. متعدد زبانوں اور اصناف میں شاعری آور تراجم کے ساتھ ساتھ بابر نے عشرے کی صنف متعارف کرائی جسے بطور خاص جدید ترین لکھنے والوں کی نسل میں قبول عام حاصل ہوا.




Comments