میں کچھ دنوں میں اسے چھوڑ جانے والا تھا



میں کچھ دنوں میں اسے چھوڑ جانے والا تھا
جہاز غرق ہوا جو خزانے والا تھا

!گلوں سے بوئے شکست اٹھ رہی ہے ، نغمہ گرو
یہیں کہیں ، کوئی کوزے بنانے والا تھا

عجیب حال تھا اس دشت کا، میں آیا تو
نہ خاک تھی نہ کوئی خاک اڑانے والا تھا

تمام دوست الاؤ کے گرد جمع تھے اور
ہر ایک اپنی کہانی سنانے والا تھا

کہانی جس میں یہ دنیا نئی تھی، اچھی تھی
اور اس پہ وقت برا وقت آنے والا تھا

بس ایک خواب کی دوری پہ ہے وہ شہر جہاں
میں اپنے نام کا سکہ چلانے والاتھا

شجر کے ساتھ مجھے بھی ہلا گیا ، بابر
وہ سانحہ جو اسے پیش آنے والا تھا





مصنف کے بارے میں


...

ادریس بابر

1974 - |


گوجرانوالہ پاکستان میں پیدا ہونے والے لکھاری نے انجینئرنگ یونیورسٹی لاہور سے الیکٹریکل انجینئرنگ کی. پہلا شعری مجموعہ "یونہی" ۲۰۱۲ میں شائع ہو سکا جسے فیض احمد فیض ایوارڈ سے نوازا گیا۔ اکادمی ادبیات پاکستان کے لیے پاکستانی ادب کے سالانہ انتخاب سمیت پاکستانی نظم کا ستر سالہ انتخاب مرتب کیا. مجلس ترقی ادب لاہور کے لیے اردو غزل کے ستر سالہ انتخاب کی تدوین کی. متعدد زبانوں اور اصناف میں شاعری آور تراجم کے ساتھ ساتھ بابر نے عشرے کی صنف متعارف کرائی جسے بطور خاص جدید ترین لکھنے والوں کی نسل میں قبول عام حاصل ہوا.




Comments