مطلع غزل کے غیر ضروری کیا کیوں کب کا حصہ ہے



مطلع غزل کے غیر ضروری کیا کیوں کب کا حصہ ہے
 زندگی چاکلیٹ کیک ہے تهوڑا تهوڑا سب کا حصہ ہے

 اب جو بار میں تنہا پیتا ہوں کافی کے نام پہ زہر
اسکی تلخ سی شیرینی میں اس کے لب کا حصہ ہے

لوک کہانیوں میں مابعد جدید کی پیش آمد جیسے
فکشن کی ری سیل ویلیو میں مذہب کا حصہ ہے

کے پی کے افغانستان ہے اور بلوچستان ایران
سنده ہے چین میں اور پیارا پنجاب عرب کا حصہ ہے

سوہنی یا سوہنے سے پہلے حق ہے گهڑے پر پانی کا
کب سے گهڑی میں جب اور تب سے زیادہ اب کا حصہ ہے

مانا ہجر کی رات ہے یہ پر کتنی خوشی کی بات ہے یہ
غم کی رم رم جهم کی ہمدم بزمے طرب کا حصہ ہے

کیب چلانے والے دا جی .. ٹیب چلانے والا ساجی
وہ جو ادب کا حصہ تهے تو یہ بهی ادب کاحصہ ہے

طے ہوا نظم ہی مستقبل ہے .. پان سو بل ہے، بهئی پیارو
آنکھ نہ مارو غزل ہمارے حسب نسب کا حصہ ہے

اک دن جب بوڑهے پینٹر کے پاس شراب کے پیسے نہیں تهے
چهت پر یہ گهنگهور گهٹا تب سے اس پب کا حصہ ہے

سیکس جو پہلے ساختیاتی روز و شب کا حصہ تهی
اب ما بعد ساختیاتی روز و شب کا حصہ ہے

قافیہ بحر ردیف وغیرہ جیسے حریف ظریف وغیرہ
ان کو ٹهنڈا سوڈا پلاو .. بهائی یہ کب کا قصہ ہے





مصنف کے بارے میں


...

ادریس بابر

1974 - |


گوجرانوالہ پاکستان میں پیدا ہونے والے لکھاری نے انجینئرنگ یونیورسٹی لاہور سے الیکٹریکل انجینئرنگ کی. پہلا شعری مجموعہ "یونہی" ۲۰۱۲ میں شائع ہو سکا جسے فیض احمد فیض ایوارڈ سے نوازا گیا۔ اکادمی ادبیات پاکستان کے لیے پاکستانی ادب کے سالانہ انتخاب سمیت پاکستانی نظم کا ستر سالہ انتخاب مرتب کیا. مجلس ترقی ادب لاہور کے لیے اردو غزل کے ستر سالہ انتخاب کی تدوین کی. متعدد زبانوں اور اصناف میں شاعری آور تراجم کے ساتھ ساتھ بابر نے عشرے کی صنف متعارف کرائی جسے بطور خاص جدید ترین لکھنے والوں کی نسل میں قبول عام حاصل ہوا.




Comments