سیٹی کی صدا آتی تھی مالیر سے .... پہنچا!




سیٹی کی صدا آتی تھی مالیر سے .... پہنچا!
افسوس! صد افسوس، کہ تاخیر سے پہنچا

تھر، مور بچا کوئی، نہ گھر اور بچا تھا
میں خاک اڑاتا ہوا کشمیر سے پہنچا

دلکش تھا بیابان کہ مہمانوں کا اک غول
مجھ تک مری بکھری ہوئی زنجیر سے پہنچا

کل تک نہ پہنچ پائے تو احباب کی من موج
چل کر جو سخن، آج تلک، میر سے، پہنچا

مٹی میں کچھ اپنی بھی جڑت لازمی ہو گی
باقی کا سہارا فن-تعمیر سے پہنچا

آدم جی نے یہ رمز مشینوں سے ہی سمجھی
ملبوس بہم کب کسے انجیر سے پہنچا

سیلفی کا خیال آیا اسے دیکھ کے، بابر
میں خواب تلک خواب کی تعبیر سے پہنچا





مصنف کے بارے میں


...

ادریس بابر

1974 - |


گوجرانوالہ پاکستان میں پیدا ہونے والے لکھاری نے انجینئرنگ یونیورسٹی لاہور سے الیکٹریکل انجینئرنگ کی. پہلا شعری مجموعہ "یونہی" ۲۰۱۲ میں شائع ہو سکا جسے فیض احمد فیض ایوارڈ سے نوازا گیا۔ اکادمی ادبیات پاکستان کے لیے پاکستانی ادب کے سالانہ انتخاب سمیت پاکستانی نظم کا ستر سالہ انتخاب مرتب کیا. مجلس ترقی ادب لاہور کے لیے اردو غزل کے ستر سالہ انتخاب کی تدوین کی. متعدد زبانوں اور اصناف میں شاعری آور تراجم کے ساتھ ساتھ بابر نے عشرے کی صنف متعارف کرائی جسے بطور خاص جدید ترین لکھنے والوں کی نسل میں قبول عام حاصل ہوا.




Comments