سر راہے پڑے ہیں ہم کہ گھر بیٹھے ہوئے ہیں



اور اب اس بات سے بھی بے خبر بیٹھے ہوئے ہیں
سر راہے پڑے ہیں ہم کہ گھر بیٹھے ہوئے ہیں

پھر اس نے چھیڑ دی ہیں ایسی کچھ دلچسپ باتیں
ہم اپنے مسئلے کو بھول کر بیٹھے ہوئے ہیں

ہمیں اب صبر کرنے کا نہ کوئی مشورہ دے
کہ ہم یہ تجربہ پہلے سے کر بیٹھے ہوئے ہیں

نہیں بھی ہوں تو دیواروں میں ، دروازے بنادیں
فصیل شہر پر جو سحر گر بیٹھے ہوئے ہیں

سنا تھا ایک دن تعبیر کا در بھی کھلے گا
ابھی تو خواب کی دہلیز پر بیٹھے ہوئے ہیں

ابھی  تو  بادباں  تبدیل  ہو سکتے  ہیں بابر
ابھی بجرے کھڑے ہیں اور بھنور بیٹھے ہوئے ہیں





مصنف کے بارے میں


...

ادریس بابر

1974 - |


گوجرانوالہ پاکستان میں پیدا ہونے والے لکھاری نے انجینئرنگ یونیورسٹی لاہور سے الیکٹریکل انجینئرنگ کی. پہلا شعری مجموعہ "یونہی" ۲۰۱۲ میں شائع ہو سکا جسے فیض احمد فیض ایوارڈ سے نوازا گیا۔ اکادمی ادبیات پاکستان کے لیے پاکستانی ادب کے سالانہ انتخاب سمیت پاکستانی نظم کا ستر سالہ انتخاب مرتب کیا. مجلس ترقی ادب لاہور کے لیے اردو غزل کے ستر سالہ انتخاب کی تدوین کی. متعدد زبانوں اور اصناف میں شاعری آور تراجم کے ساتھ ساتھ بابر نے عشرے کی صنف متعارف کرائی جسے بطور خاص جدید ترین لکھنے والوں کی نسل میں قبول عام حاصل ہوا.




Comments