ستارے مڑ کے بہت دیکھتے ہیں، کیا ہوا تھا



ستارے مڑ کے بہت دیکھتے ہیں، کیا ہوا تھا
کہ دل ، یہ پھول ہمیشہ سے کب کھلا ہوا تھا

کسی غزال کا نام و نشان پوچھنا ہے
تو پوچھیے ، میں اسی دشت میں بڑا ہوا تھا

کمال ہے کہ مرے ساتھ ساتھ رہتے ہوئے
وہ شخص جیسے کہیں اور بھی گیا ہوا تھا

ہنسی خوشی سبھی رہنے لگے مگر کب تک
میں پوچھتا ہوں کہانی کے بعد کیا ہوا تھا

پھر ایک دن مجھے اپنی کتاب یاد آئی
تو وہ چراغ وہیں تھا، مگر بجھا ہوا تھا

خوشی سے اس کو سہارا نہیں دیا میں نے
مگر وہ سب سے اکیلا تھا، ڈوبتا ہوا تھا

کہ جیسے آنکھ جہان دگر میں وا ہوگی
بتارہے ہیں کہ میں اس قدر تھکا ہوا تھا





مصنف کے بارے میں


...

ادریس بابر

1974 - |


گوجرانوالہ پاکستان میں پیدا ہونے والے لکھاری نے انجینئرنگ یونیورسٹی لاہور سے الیکٹریکل انجینئرنگ کی. پہلا شعری مجموعہ "یونہی" ۲۰۱۲ میں شائع ہو سکا جسے فیض احمد فیض ایوارڈ سے نوازا گیا۔ اکادمی ادبیات پاکستان کے لیے پاکستانی ادب کے سالانہ انتخاب سمیت پاکستانی نظم کا ستر سالہ انتخاب مرتب کیا. مجلس ترقی ادب لاہور کے لیے اردو غزل کے ستر سالہ انتخاب کی تدوین کی. متعدد زبانوں اور اصناف میں شاعری آور تراجم کے ساتھ ساتھ بابر نے عشرے کی صنف متعارف کرائی جسے بطور خاص جدید ترین لکھنے والوں کی نسل میں قبول عام حاصل ہوا.




Comments

  • noimage cimg

    Mahak Mehar

    Wah