ستارے دیکھ کر بہت خوشی ہوئی



زمیں کے خواب آسماں پہ جا کھلے
ستارے دیکھ کر بہت خوشی ہوئی
وہ بلب آنکھیں ملتا، منہ بسورتا
جگا دیا گیا تو روشنی ہوئی
نہ زندگی ملی ہے لوٹ سیل میں
نہ شاعری پلیٹ میں دھری ہوئی
یہ سگرٹ اس کے ہونٹوں سے جلا ہوا
یہ گھاس اس کے پیروں سے دبی ہوئی
وہ کہتا ہے میں اس کو دیکھتا گرا
یہی مجھے لگا تھا، میں نے پی ہوئی..
جزیرے مانجھیوں کے راز دار ہیں
سمندروں سے گہری دوستی ہوئی
بس ایک روز منہ اٹھا کے مر گئے
جناب، لا جواب زندگی ہوئی
سڑک نہیں یہ چلتی پھرتی فلم ہے
کہیں ڈبل، کہیں چول کٹی ہوئی
ڈرو نہیں، بتادوں گا، اگر ڈرا
اگر یہ کامیاب خود کشی ہوئی
تو یوں ہوا، میں اس سے کچھ نہ کہہ سکا
اور اس طرح شروع شاعری ہوئی





مصنف کے بارے میں


...

ادریس بابر

1974 - |


گوجرانوالہ پاکستان میں پیدا ہونے والے لکھاری نے انجینئرنگ یونیورسٹی لاہور سے الیکٹریکل انجینئرنگ کی. پہلا شعری مجموعہ "یونہی" ۲۰۱۲ میں شائع ہو سکا جسے فیض احمد فیض ایوارڈ سے نوازا گیا۔ اکادمی ادبیات پاکستان کے لیے پاکستانی ادب کے سالانہ انتخاب سمیت پاکستانی نظم کا ستر سالہ انتخاب مرتب کیا. مجلس ترقی ادب لاہور کے لیے اردو غزل کے ستر سالہ انتخاب کی تدوین کی. متعدد زبانوں اور اصناف میں شاعری آور تراجم کے ساتھ ساتھ بابر نے عشرے کی صنف متعارف کرائی جسے بطور خاص جدید ترین لکھنے والوں کی نسل میں قبول عام حاصل ہوا.




Comments