ربط اسیروں کو ابھی اس گل تر سے کم ہے



ربط اسیروں کو ابھی اس گل تر سے کم ہے
ایک رخنہ سا جو دیوار میں، در سے کم ہے

حرف کی لو میں ادھر اور بڑھا دیتا ہوں
آپ بتلائیں تو یہ خواب جدھر سے کم ہے

ہاتھ دنیا کا بھی ہے دل کی خرابی میں بہت
پھر بھی اے دوست! تری ایک نظر سے کم ہے

سو لو، میں بھی ہوا چپ تو گراں گزرے گا
یہ اندھیرا جو اسی شور وشرر سے کم ہے

دل ستارا تو نہیں تھا کہ اچانک بجھ جائے
ابر جتنا بھی مری راکھ پہ برسے کم ہے

خاک اتنی نہ اڑائیں تو ہمیں بھی بابر
دشت اچھا ہے کہ ویرانی میں گھر سے کم ہے





مصنف کے بارے میں


...

ادریس بابر

1974 - |


گوجرانوالہ پاکستان میں پیدا ہونے والے لکھاری نے انجینئرنگ یونیورسٹی لاہور سے الیکٹریکل انجینئرنگ کی. پہلا شعری مجموعہ "یونہی" ۲۰۱۲ میں شائع ہو سکا جسے فیض احمد فیض ایوارڈ سے نوازا گیا۔ اکادمی ادبیات پاکستان کے لیے پاکستانی ادب کے سالانہ انتخاب سمیت پاکستانی نظم کا ستر سالہ انتخاب مرتب کیا. مجلس ترقی ادب لاہور کے لیے اردو غزل کے ستر سالہ انتخاب کی تدوین کی. متعدد زبانوں اور اصناف میں شاعری آور تراجم کے ساتھ ساتھ بابر نے عشرے کی صنف متعارف کرائی جسے بطور خاص جدید ترین لکھنے والوں کی نسل میں قبول عام حاصل ہوا.




Comments