دوست کچھ اور بھی ہیں تیرے علاوہ مرے دوست



دوست کچھ اور بھی ہیں تیرے علاوہ مرے دوست
کئی صحرا مرے ہمدم ،کئی دریا مرے دوست

تو بھی ہو، میں بھی ہوں، اک جگہ پہ اور وقت بھی ہو
اتنی گنجائشیں رکھتی نہیں دنیا مرے دوست

تیری آنکھوں پہ مرا خواب سفر ختم ہوا
جیسے ساحل پہ اتر جائے سفینہ مرے دوست

زیست بے معنی وہی بے سرو سامانی وہی
پھربھی جب تک ہے تری دھوپ کا سایہ مرے دوست

اب تولگتا ہے جدائی کا سبب کچھ بھی نہ تھا
آدمی بھول بھی سکتا ہے نا رستا مرے دوست

راہ تکتے ہیں کہیں دور کئی سست چراغ
اور ہوا تیز ہوئی جاتی ہے، اچھا، مرے دوست





مصنف کے بارے میں


...

ادریس بابر

1974 - |


گوجرانوالہ پاکستان میں پیدا ہونے والے لکھاری نے انجینئرنگ یونیورسٹی لاہور سے الیکٹریکل انجینئرنگ کی. پہلا شعری مجموعہ "یونہی" ۲۰۱۲ میں شائع ہو سکا جسے فیض احمد فیض ایوارڈ سے نوازا گیا۔ اکادمی ادبیات پاکستان کے لیے پاکستانی ادب کے سالانہ انتخاب سمیت پاکستانی نظم کا ستر سالہ انتخاب مرتب کیا. مجلس ترقی ادب لاہور کے لیے اردو غزل کے ستر سالہ انتخاب کی تدوین کی. متعدد زبانوں اور اصناف میں شاعری آور تراجم کے ساتھ ساتھ بابر نے عشرے کی صنف متعارف کرائی جسے بطور خاص جدید ترین لکھنے والوں کی نسل میں قبول عام حاصل ہوا.




Comments