درخت نغمہ سرا ہیں تو پھر یہی ہوگا



درخت نغمہ سرا ہیں تو پھر یہی ہوگا
مجھے پتا تھا کہ وہ باغ واقعی ہوگا

وہیں ملیں گے، اسی یادگار پیڑتلے
جگہ ہمارے لیے ہوگی، وقت بھی ہوگا

میں زر سمیٹ رہا تھا تو ایک سانپ کا خوف
بہت قریب سے گزرا تھا سامری ہوگا

کہیں تو اس میں کوئی شے ذرا سی بدلی ہے
بہت دنوں میں وہ پھر جا کے پھر وہی ہوگا

میں اس کے قتل کو نوٹس میں لانا چاہتا ہوں
کہ چپ رہا تو مرے ساتھ بھی یہی ہوگا

گزررہا تھا وہاں سے جہاں میں تھا لب مرگ
کواڑ تھام لے، ماں۔۔۔۔یہ اک اجنبی ہوگا

نظر میں ہے کئی بجھتے ہوئے ستاروں کی
مرا غبار، جو آئندہ روشنی ہوگا





مصنف کے بارے میں


...

ادریس بابر

1974 - |


گوجرانوالہ پاکستان میں پیدا ہونے والے لکھاری نے انجینئرنگ یونیورسٹی لاہور سے الیکٹریکل انجینئرنگ کی. پہلا شعری مجموعہ "یونہی" ۲۰۱۲ میں شائع ہو سکا جسے فیض احمد فیض ایوارڈ سے نوازا گیا۔ اکادمی ادبیات پاکستان کے لیے پاکستانی ادب کے سالانہ انتخاب سمیت پاکستانی نظم کا ستر سالہ انتخاب مرتب کیا. مجلس ترقی ادب لاہور کے لیے اردو غزل کے ستر سالہ انتخاب کی تدوین کی. متعدد زبانوں اور اصناف میں شاعری آور تراجم کے ساتھ ساتھ بابر نے عشرے کی صنف متعارف کرائی جسے بطور خاص جدید ترین لکھنے والوں کی نسل میں قبول عام حاصل ہوا.




Comments

  • noimage cimg

    Mahak Mehar

    Idrees bhai wah wah