جو منزلیں تھیں، راستوں میں کھوچکے ہیں



جو منزلیں تھیں، راستوں میں کھوچکے ہیں
غلام گردشوں میں لوگ سوچکے ہیں

مکان پر کہیں سے روشنی گری تو
پتا چلا کہ ہم غروب ہوچکے ہیں

جزیرے پر یہ ناگزیردوستی تھی
سب اپنی ، ان کی کشتیاں ڈبو چکے ہیں

گھروں کا تذکرہ چلے تو یاد آئے
کہ ہاں، یہ خواب ہم بھی دیکھ تو چکے ہیں

عجائبات دیکھنے کی دیر تھی یاں
کہ ہم تو جا بھی اس دیار کو چکے ہیں

درخت صبح تازہ دم تھے، ہم سے پہلے
رسول اپنی بستیوں کو رو چکے ہیں

سکوں محال گردشوں میں راکھ تارے
خلاؤں میں حضر کے بیج بو چکے ہیں





مصنف کے بارے میں


...

ادریس بابر

1974 - |


گوجرانوالہ پاکستان میں پیدا ہونے والے لکھاری نے انجینئرنگ یونیورسٹی لاہور سے الیکٹریکل انجینئرنگ کی. پہلا شعری مجموعہ "یونہی" ۲۰۱۲ میں شائع ہو سکا جسے فیض احمد فیض ایوارڈ سے نوازا گیا۔ اکادمی ادبیات پاکستان کے لیے پاکستانی ادب کے سالانہ انتخاب سمیت پاکستانی نظم کا ستر سالہ انتخاب مرتب کیا. مجلس ترقی ادب لاہور کے لیے اردو غزل کے ستر سالہ انتخاب کی تدوین کی. متعدد زبانوں اور اصناف میں شاعری آور تراجم کے ساتھ ساتھ بابر نے عشرے کی صنف متعارف کرائی جسے بطور خاص جدید ترین لکھنے والوں کی نسل میں قبول عام حاصل ہوا.




Comments