بساط پر گنوا دیا گیا نہ ہو



بساط پر گنوا دیا گیا نہ ہو
مجھے غلط بڑھا دیا گیا نہ ہو

عجب نہیں لکھا ہو دل پہ کوئی نام
مگر کوئی پتا دیا گیا نہ ہو

میں داستان تک تو اس کے ساتھ تھا
اور اب مجھے بھلا دیا گیا نہ ہو

جو نام لکھنا تھا درخت پر مجھے
وہ شاخ پر کھلا دیا گیا نہ ہو

یہ راکھ دیکھ کر مجھے گماں ہوا
وہ پیڑ بھی جلا دیا گیا نہ ہو

ستارہ آنا چاہتا ہو میرے پاس
پر اس کو راستہ دیا گیا نہ ہو

عجیب انتشارسا ہے خواب میں
کہیں مجھے جگا دیا گیا نہ ہو





مصنف کے بارے میں


...

ادریس بابر

1974 - |


گوجرانوالہ پاکستان میں پیدا ہونے والے لکھاری نے انجینئرنگ یونیورسٹی لاہور سے الیکٹریکل انجینئرنگ کی. پہلا شعری مجموعہ "یونہی" ۲۰۱۲ میں شائع ہو سکا جسے فیض احمد فیض ایوارڈ سے نوازا گیا۔ اکادمی ادبیات پاکستان کے لیے پاکستانی ادب کے سالانہ انتخاب سمیت پاکستانی نظم کا ستر سالہ انتخاب مرتب کیا. مجلس ترقی ادب لاہور کے لیے اردو غزل کے ستر سالہ انتخاب کی تدوین کی. متعدد زبانوں اور اصناف میں شاعری آور تراجم کے ساتھ ساتھ بابر نے عشرے کی صنف متعارف کرائی جسے بطور خاص جدید ترین لکھنے والوں کی نسل میں قبول عام حاصل ہوا.




Comments