اُسے اُس کے پروفایل پہ جا کر دیکھ لیتے ہیں



نجانے اب کہاں ہو گا. یہ پکچر دیکھ لیتے ہیں
اُسے اُس کے پروفایل پہ جا کر دیکھ لیتے ہیں

مرے منہ بولے بھائی.. آئینے.. لب کھولتے کب ہیں
دکھاتے ساتھ سب ہاتھوں میں پتھر دیکھ لیتے ہیں

ارے دیوار کیا ہے، عالمی سینما کا پردہ ہے
یہیں کاسا بلانکا، گاڈ فادر دیکھ لیتے ہیں

چلا بادل ندی تک، ندیا دریا تک اٹھا لائی
کہاں تک ساتھ دیتا ہے سمندر، دیکھ لیتے ہیں

اُنہیں دیوار میں کھڑکی نظر آ ہی نہیں سکتی
ادھر ہم کتنی آسانی سے باہر دیکھ لیتے ہیں






مصنف کے بارے میں


...

ادریس بابر

1974 - |


گوجرانوالہ پاکستان میں پیدا ہونے والے لکھاری نے انجینئرنگ یونیورسٹی لاہور سے الیکٹریکل انجینئرنگ کی. پہلا شعری مجموعہ "یونہی" ۲۰۱۲ میں شائع ہو سکا جسے فیض احمد فیض ایوارڈ سے نوازا گیا۔ اکادمی ادبیات پاکستان کے لیے پاکستانی ادب کے سالانہ انتخاب سمیت پاکستانی نظم کا ستر سالہ انتخاب مرتب کیا. مجلس ترقی ادب لاہور کے لیے اردو غزل کے ستر سالہ انتخاب کی تدوین کی. متعدد زبانوں اور اصناف میں شاعری آور تراجم کے ساتھ ساتھ بابر نے عشرے کی صنف متعارف کرائی جسے بطور خاص جدید ترین لکھنے والوں کی نسل میں قبول عام حاصل ہوا.




Comments

  • noimage cimg

    Mirza Mueed Ahmad

    اُنہیں دیوار میں کھڑکی نظر آ ہی نہیں سکتی ادھر ہم کتنی آسانی سے باہر دیکھ لیتے ہیں

  • noimage cimg

    Mirza Mueed Ahmad

    اُنہیں دیوار میں کھڑکی نظر آ ہی نہیں سکتی ادھر ہم کتنی آسانی سے باہر دیکھ لیتے ہیں

  • noimage cimg

    Mirza Mueed Ahmad