آدمی سوچتا رہتا ہے خدا ہے کہ نہیں



آج تک خود سے کوی کام بنا ہے کہ نہیں
آدمی سوچتا رہتا ہے خدا ہے کہ نہیں


کس کچہری میں لیے جاتا ہے فایل ہر صبح
مہر-بیتاب ! ترا کیس لگا ہے کہ نہیں


اِس طرح کھوے ہوئے روز کہاں ملتے ہیں
اُس نے پوچھا کہ تیرا کوئی پتا ہے کہ نہیں


ابھی آنکھیں نہیں جھپکیں اسے رخصت کر کے
چاند پہ کیا پتا انسان گیا ہے کہ نہیں


سانس مانند سما رکھا تھا سینے میں اسے
اب زرا دم لوں تو جانوں کہ ہَوا ہے کہ نہیں


کس کی فوٹو ہے کہ چیک کرتے ہیں جھک کر اشجار
کسی ٹہنی سے کوئی پھول گرا ہے کہ نہیں


نقش کرتے ہوے کیا دھیان رہے، کون کہے
اک پرندہ اسی پرچے سے اڑا ہے کہ نہیں


آخری سین میں جانی تھی فلایٹ اس کی
پاس کی سِیٹ سے وہ اٹھ کے گیا ہے کہ نہیں


جب ہم اترے، تو فلک پینٹ کیا جا چکا تھا
یار!! دو چار ستاروں کی جگہ ہے کہ نہیں؟






مصنف کے بارے میں


...

ادریس بابر

1974 - |


گوجرانوالہ پاکستان میں پیدا ہونے والے لکھاری نے انجینئرنگ یونیورسٹی لاہور سے الیکٹریکل انجینئرنگ کی. پہلا شعری مجموعہ "یونہی" ۲۰۱۲ میں شائع ہو سکا جسے فیض احمد فیض ایوارڈ سے نوازا گیا۔ اکادمی ادبیات پاکستان کے لیے پاکستانی ادب کے سالانہ انتخاب سمیت پاکستانی نظم کا ستر سالہ انتخاب مرتب کیا. مجلس ترقی ادب لاہور کے لیے اردو غزل کے ستر سالہ انتخاب کی تدوین کی. متعدد زبانوں اور اصناف میں شاعری آور تراجم کے ساتھ ساتھ بابر نے عشرے کی صنف متعارف کرائی جسے بطور خاص جدید ترین لکھنے والوں کی نسل میں قبول عام حاصل ہوا.




Comments