ہر گماں کو یقیں بناتے ہیں



ہر گماں کو یقیں بناتے ہیں

یوں غزل کی زمیں بناتے ہیں

ہم بناتے ہیں اس کو وحشت میں

اور مکمل نہیں بناتے ہیں

چُھو کے ہم اس کا جسم پہلے سے

اور زیادہ حسیں بناتے ہیں

ہم بناتے ہیں اپنے لب پیاسے

اور اس کی جَبِیں بناتے ہیں

کرب وحشت کشید کر کے ہم

اس سے شورِ حزیں بناتے ہیں






مصنف کے بارے میں


...

انصر احمد بلاول

August 10-1996 - | Chenab nagar





Comments