حوصلہ بھی کمال رکھا ہے



حوصلہ بھی کمال رکھا ہے

ضبط کر کے ملال رکھا ہے

ایک مدت سے اس کی یادوں کے

خود کو سانچے میں ڈھال رکھا ہے

نیند اس کو بھی اب نہیں آ تی

جس نے مجھ کو نڈھال رکھا ہے

اب مجھے چھوڑ کر وہ کہتے ہیں

کیوں خراب اپنا حال رکھا ہے

دیکھ آ کر تیرئے دیوانے نے

اپنا جینا محال رکھا ہے

ہم فقیروں نے اس کے کوچے میں

ایک ڈیرا سا ڈال رکھا ہے






مصنف کے بارے میں


...

انصر احمد بلاول

August 10-1996 - | Chenab nagar





Comments