اک جہاں اور ہے جہاں کے بیچ



اک جہاں اور ہے جہاں کے بیچ

یعنی اک اور کہکشاں کے بیچ

اک گماں میں کئی گماں ہیں یہاں

اک گماں اور ہے گماں کے بیچ

 کوئی منظر نہیں ہے تکنے کو

ایسی وحشت ہے آسماں کے بیچ

کرب وحشت گھٹن آشوب مگر

لذتِ ہجر ہے زیاں کے بیچ

اک فلک ہے کہ بس اضافی ہے

اور سب ٹھیک ہے جہاں کے بیچ






مصنف کے بارے میں


...

انصر احمد بلاول

August 10-1996 - | Chenab nagar





Comments