وزیراعظم ہائوس کے اخراجات، کامی شاہ ، کالم ظفر اقبال



...



وزیراعظم ہائوس کے اخراجات جیب سے 
ادا کیے‘ چیک موجود ہوں گے: نواز شریف
مستقل نا اہل اور سزا یافتہ سابق وزیراعظم میاں نواز شریف نے کہا ہے کہ ''وزیراعظم ہائوس کے اخراجات اپنی جیب سے ادا کیے‘ چیک موجود ہوں گے‘‘ اور اگر موجود نہ ہوں تو کسی سازش کے تحت اِدھر اُدھر کر دیئے گئے ہوں گے‘ اور اس کا مطلب یہ بھی نہیں کہ مجھ سے منی ٹریل طلب کی جائے‘ ویسے اخلاقی طور پر بھی وہ خرچہ مجھے خود ادا کرنا چاہئے تھا‘ کیونکہ زیادہ خرچہ کمانے ہی کا ہوا کرتا تھا‘ جو زیادہ تر میرے ہی استعمال میں ہوتا تھا اور یہ جو وزیر اطلاعات نے جو تردید کی ہے‘ تو اس میں سے بھی سازش کی بُو آتی ہے‘ کیونکہ میرے خلاف ہر جگہ سازش کی گئی ‘جس کا مجھے پتا ہی نہیں چلا ‘کیونکہ میں خدمت میں مصروف تھا‘ جبکہ ایک وقت میں ایک ہی کام کیا جا سکتا ہے‘ تا کہ کام کو یکسوئی سے اور دل لگا کر کیا جائے اور اس کے بہتر نتائج بھی برآمد ہوتے ہیں‘ جبکہ یہ کام ہی کچھ ایسا تھا کہ اس کے علاوہ کوئی اور کام کرنے کو جی ہی نہیں چاہتا تھا۔ آپ اگلے روز ا ڈیالہ جیل سے احتساب عدالت میں پیشی کے بعد جیل جاتے ہوئے بیان جاری کر رہے تھے۔
عمران خان کو جو لوگ لے کر آئے ہیں‘ وہی نکالیں گے: احسن اقبال
سابق وفاقی وزیر داخلہ اور ن لیگ کے رکن قومی اسمبلی چوہدری احسن اقبال نے کہا ہے کہ ''عمران خان کو جو لوگ لے کر آئے ہیں‘ وہی نکالیں گے‘‘ کیونکہ ہمیں بھی عام طور پر وہی نکالا کرتے تھے اس لیے عمران خان کو بغلیں بجانے کی ضرورت نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ''وزیراعظم نے خارجہ پالیسی پر ٹھوس بات نہیں کی‘‘ جبکہ ہم نے کوئی وزیر خارجہ رکھنے کا تکلف ہی نہیں کیا تھا‘ اور نہ نواز شریف اٹھتے بیٹھتے‘ کھاتے پیتے اسی فکر میں مبتلا رہا کرتے تھے اور اسی مشقت کی وجہ سے انہیں بھوک بھی زیادہ لگتی تھی اور بار بار کھانا کھانا پڑتا تھا۔ آپ اگلے روز اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے۔
حسن اور حسین نواز کا ذکر کرنے والے
مشرف کا کیوں نہیں کرتے : جاوید لطیف
ن لیگ کے رہنما جاوید لطیف نے کہا ہے کہ ''حسن اور حسین نواز کا ذکر کرنے والے مشرف کا کیوں نہیں کرتے ‘‘ اگرچہ اسے ہم نے خود ہی ملک سے باہر جانے کی اجازت دی تھی‘ کیونکہ عدالت نے کہہ دیا تھا کہ یہ حکومت کی صوابدید پر منحصر ہے‘ اس لیے ہم اس کا نام بار بار لیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ''نواز شریف کے خلاف کوئی الزام ثابت نہیں ہوا‘‘ کیونکہ وہائٹ کالر جرائم کا ثابت ہونا‘ ویسے بھی کوئی آسان کام نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ سب کو نظر آ رہا ہے کہ ''نواز شریف کو انتقام کا نشانہ بنایا گیا‘‘ البتہ ابھی تک یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ ان سے کس بات کا انتقام لیا گیا ہے۔ آپ اگلے روز ایک نجی ٹی وی چینل کے ایک پروگرام میں شریک تھے۔
تحریک انصاف نے حکومت سازی میں
ہارس ٹریڈنگ کی روایت دہرائی: مرزا جاوید
ن لیگ کے ایم پی اے محمد مرزا جاوید نے کہا ہے کہ ددتحریک انصاف نے حکومت سازی میں ہارس ٹریڈنگ کی روایت دہرائی‘‘ اگرچہ کوشش تو ہم نے بھی بہت کی تھی لیکن وہ یہی کہتے تھے کہ آپ کا پیسہ کرپشن کا پیسہ ہے‘ اس لیے قابل قبول نہیں ہے‘ حالانکہ پیسہ تو پیسہ ہوتا ہے۔ اس میں حرام حلال کا سوال کہاں سے آگیا جبکہ ہم نے تو پیسے کے ساتھ اس قدر امتیازی سلوک کبھی روا نہیں رکھا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ''جمہوریت کی گاڑی چلتے دیکھنا چاہتے ہیں‘‘ کیونکہ ہلڑ مچانے کی گنجائش بھی اس میں ہوتی ہے جبکہ ڈکٹیٹر شپ میں تو سانس بھی آہستہ ہی لینا پڑتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ''پی ٹی آئی کی اصلیت جلد عوام کے سامنے آ جائے گی‘‘ جب کہ ہماری اصلیت اگرچہ ذرا دیر سے‘ عوام کے سامنے آئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ ''ن لیگ نے جمہوریت کی مضبوطی کے لیے بہت قربانیاں دی ہیں‘‘ کہ ہماری قیادت کو کہیں پردیس میں جا کر جائیدادیں بنانا پڑیں۔ آپ اگلے روز چیف کو آرڈینیٹر تصور سہیل رانجھا کے ہمراہ میڈیا اور کارکنوں سے خطاب کر رہے تھے۔
اور اب‘ حال ہی میں شائع ہونے والے‘ اپنے دوست کامی شاہ کے مجموعہ غزل ''قدیم‘‘ میں سے کچھ اشعار جو صاحب پبلی کیشنز نے چھاپا اور قیمت 500 روپے رکھی ہے:
وحشت شدید تر ہے تو حیرت عجیب تر
یعنی تمہارے خواب سے باہر پڑا ہوں میں
پہلا آدم تھا جو نکلا تھا کسی جنت سے
دیکھیے آخری انسان کہاں جاتا ہے
مرے لیے ہے معطر قدیم خوشبو سے
وہ ایک گل کہ جو بوسہ نما بنا ہوا ہے
کشتیاں جانتی نہیں تھیں مجھے
اور دریا کو جانتا تھا میں
اُس کی آنکھوں کو پار کرتے ہوئے
ایک دن ڈوبنے لگا تھا میں
ایک دریا کے سامنے رہا دل
دشت میں راستہ بناتے ہوئے
شام ڈھلتی ہوئی بنائی ہے
دن گزرتا ہوا بناتے ہوئے
عمر گزری تماش بینی میں
پر نہ سمجھے یہ کیا تماشا ہے
میں چاہتا تھا کہ دیوار پر وہ نقش بنے
سو میرے دیکھتے رہنے سے بن گیا آخر
مجھے زمین بھی کم ہی ملی سفر کے لیے
اور آسمان بھی بھی سارا نہیں ملا مجھ کو
دن برہنہ کہیں پڑا ہوا تھا
رات کپڑے بدل رہی تھی کہیں
آج کا مقطع
اس طرح بادلوں کی چھتیں چھائی تھیں‘ ظفرؔ 
چاروں طرف ہوا کا سمندر سیاہ تھا






مصنف کے بارے میں


...

ظفر اقبال

27/09/1932 - |


پاکستان کے معروف شاعر اور کالم نگار، معاصر جدید اردو غزل کے اہم ترین شاعروں میں شمار




Comments