نواز شریف سے ایسا سلوک نہ کریں ,شعر و شاعری



...



نواز شریف سے ایسا سلوک نہ کریں‘ وقت
بدلتے دیر نہیں لگتی: شہباز شریف
سابق وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف نے کہا ہے کہ ''نواز شریف سے ایسا سلوک نہ کریں‘ وقت بدلتے دیر نہیں لگتی‘‘ کیونکہ جس گاڑی میں انہیں جیل سے لایا گیا وہ اتنے بڑے مجرم کے شایان شان نہیں‘ اس لیے انہیں کسی قیمتی کار میں لایا جاتا جیسی وہ ہمیشہ' جُھوٹتے‘ رہے ہیں‘ اور جہاں تک سکیورٹی کا تعلق ہے تو زندگی اور موت اللہ کے اختیار میں ہے‘ اس لیے سکیورٹی وغیرہ کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ ویسے بھی ان کا بیانیہ ہم میں سے کسی کو ہضم نہیں ہو رہا‘ اور جہاں تک وقت کے بدلنے میں دیر کے نہ ہونے کا تعلق ہے تو میری طرف ہی دیکھ لیں‘ کل اسمبلی میں میرا کسی نے نوٹس ہی نہیں لیا اور یوٹرن عمران خان کے ساتھ وہی لوگ مصافحے کرتے اور تصویریں اترواتے اور تالیاں بجاتے رہے جو کل تک انہیں بے نقط سنا رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ ''دھاندلی کو تحفظ دینے ایوان میں نہیں آئے‘‘ اور وہاں دھاندلی کے خلاف کوئی آواز اس لیے نہیں اٹھائی کہ دھاندلی کرنے والوں سے خدا ہی سمجھے گا‘ جبکہ اللہ تعالیٰ پر ہمارا یقین پختہ اور محکم ہے۔ انہوں نے کہا کہ ''سابق وزیراعظم (اور حالی قیدی) وزیراعظم کو بکتر بند گاڑی میں لانے سے ساری قوم سکتے میں ہے‘‘ اور اس سکتے کی وجہ سے ایوان میں بھی ہم نے دھاندلی کے خلاف آواز نہیں اٹھائی‘ جب اس سکتے سے نکلیں گے تو دیکھ لیں گے‘ جبکہ پوری قوم چاہتی تھی کہ انہیں جیل سے پیدل لایا جاتا تا کہ راستے میں قوم ان کی جی بھر کے زیارت کر سکتی‘ کیونکہ ان کی رہائی وغیرہ کا تو دور دور تک کوئی امکان انہیں نظر نہیں آتا۔ انہوں نے کہا کہ ''دھاندلی کے خلاف ایوان کے اندر اور باہر سیاسی کردار ادا کریں گے‘‘ اور دھاندلی کرنے والوں کو جی بھر کے بددعائیں دیں گے۔ اگرچہ میری زبان تو کالی نہیں ہے‘ البتہ کسی قدر سانولی ضرور ہے‘ جسے مکمل کالی کرانے کی کوشش کروں گا تا کہ بددعائوں کا اثر بھی پورا ہو۔ انہوں نے کہا کہ ''باقی جماعتوں سے مل کر دھاندلی کا کھوج لگائیں گے‘‘ کیونکہ پہلے تو ہم اندازے سے ہی خلائی مخلوق کو ذمہ دار ٹھہراتے رہے‘ جبکہ بھائی صاحب کا بھی یہی خیال تھا اور اب لگتا ہے کہ جیل میں رہ کر ان کے دماغ پر بھی اثر پڑا ہے اور وہ اس طرح کی بونگیاں مارنے لگے ہیں۔ اس لیے نئے سرے سے کھوج لگائیں گے کہ یہ حرکت کس کے کہنے پر کی گئی ہے۔ اور جہاں تک اسمبلیوں سے باہر احتجاج کا تعلق ہے تو اس کا بھی وہی حشر ہو گا جو بھائی صاحب کے نام نہاد بیانیے کا ہوا ہے‘ لیکن آپ گواہ ہیں کہ میں نے اس بیانیے پر کبھی عمل نہیں کیا کیونکہ میں ایسا نہیں سمجھتا جبکہ میں اور چوہدری نثار ان کے ساتھ راتوں کو چھپ کر ملاقاتیں بھی کرتے رہے ہیں‘ اس لیے ان پر اس قسم کا الزام نہیں لگا سکتا۔ ویسے بھی الزامات ہمیشہ ہم پر لگتے رہے ہیں‘ ہمیں یہ بری عادت نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ''ہم نے جمہوریت کے استحکام کے لیے حلف اٹھایا ہے‘‘ کیونکہ اگر اسمبلیوں میں ہم بھی نہ ہوں تو جمہوریت کا کوئی والی وارث ہی نہ ہوتا‘ ویسے بھی اگر حلف نہ اٹھاتے تو ہماری سیاست ہی ختم ہو جاتی جو بصورت دیگر بھی ختم ہوتی نظر آ رہی ہے‘ کیونکہ اگر لیڈر شپ اور ساتھی معززین جیل 
میں ہوں تو ویسی ہی سیاست ہو سکتی ہے جیسی بھائی صاحب کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ''مسلم لیگ ن کے ارکان منجھے ہوئے تجربہ کار پارلیمنٹرینز ہیں‘‘ اگرچہ انہیں جس کا مکمل تجربہ حاصل ہے یعنی خدمت کا تو موقع نہیں ملے گا‘ کیونکہ یہ اقتدار کے زمانے میں ہی کی جا سکتی ہے‘ جو اب ایک خواب ہو کر رہ گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ''نواز شریف اس سلوک کے حقدار نہ تھے جو ان کے ساتھ کیا جا رہا ہے‘‘ جبکہ زندگی سے مایوس شخص کے ساتھ تو جو سلوک بھی کیا جائے‘ اسے کوئی فرق نہیں پڑتا‘ تاہم مسئلہ یہ ہے کہ کل کلاں ہمارے ساتھ بھی یہی سلوک کیا جائے گا‘ کیونکہ ہمارے خلاف مقدمات کا بھی کوئی شمار نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ''نواز شریف کی جرأت اور دلیری کو سلام پیش کرتے ہیں‘‘ جبکہ اسی جرأت اور دلیری کے باعث وہ اس نوبت کو پہنچے ہیں اور ہمارا کوئی چانس نکلا ہے‘ بشرطیکہ نیب والوں سے بچے رہے‘ لیکن آخر کب تک؟ آپ اگلے روز پارٹی کے ارکان اسمبلی سے خطاب کر رہے تھے۔
اور اب آخر میں کچھ شعر و شاعری ہو جائے:
چلے آیا کرو میری طرف بھی
محبت کرنے والا آدمی ہوں (انورشعور)
ہر ایک ہم کو ستانے پہ آ گیا توبہ
ہمارا دل جو نشانے پہ آ گیا توبہ (حمیدہ شاہین)
اک بدن میں بڑی مشکل سے سمایا ہوا ہوں
میری وسعت کو ترے جسم کی حاجت ہے دوست (ضمیر طالب)
میں بھنور کے عین درمیان بن گیا
وہی ہوا مرا بدن کمان بن گیا (عمیر نجمی)
وہ ایک عشق جو مجھ پر اتارا جائے گا
وہ ایک حسن جو تجھ پر نزول کر گیا ہے
کسی کے لمس نے گلزار کر دیئے رستے
ہر ایک سمت کوئی پھول پھول کر گیا ہے
وہ لوٹ آئے گا رستے سے دیکھنا تم بھی
وہ اپنا آپ مرے پاس بھول کر گیا ہے (آزاد حسین آزادؔ)
یہ جان کر کہ مرے سر سے آسمان گیا
زمین پائوں تلے سے سرک رہی ہے اب (بلقیس خان)
تو ہی پتھر نہ ہو سکا‘ ورنہ
میں تجھے پُوجنے کے حق میں تھی (ایمان فاطمہ)
کھونے کی تجھے مجھ کو وہی فکر لگی ہے
ہوتی ہے مسافر کو جو سامان کے بارے (عاجز جمال)
اُس نے دیکھا تھا آنکھ بھر کے مجھے
آ گیا ہوں انڈیل کر خود کو (محمد اویس راجا)
مقطع
آسماں پر کوئی تصویر بناتا ہوں ظفر
کہ رہے ایک طرف اور لگے چاروں طرف

 






مصنف کے بارے میں


...

ظفر اقبال

27/09/1932 - |


پاکستان کے معروف شاعر اور کالم نگار، معاصر جدید اردو غزل کے اہم ترین شاعروں میں شمار




Comments