ہم سب اور ہمارا رویہ



...




ایک واقعہ رونما ہوتا ہے. شور مچتا ہے پھر گھمبیر خاموشی چھا جاتی ہے. جذباتی باتیں ہوتی ہیں، بہتان تراشی ہوتی ہے، ٹاک شوز ہوتے ہیں، طویل اور متنازعہ بحث و مباحثے ہوتے ہیں، فیسبک پر تصویریں لگائی جاتی ہیں، دل دہلا دینے والے سٹیٹس لگائے جاتے ہیں، کی بورڈ سے جہاد میں بھرپور حصہ لیا جاتا ہے. ہم سب ابھی حل کی جانب جانے کا سوچ ہی رہے ہوتے ہیں کہ ایک اور بریکنگ نیوز آ جاتی ہے اور ہمیں دوبارہ اسی سلسلے سے گزرنا پڑتا ہے.
ہم بحیثیت قوم ہر واقعے ہر سانحے کو صرف وقت گزاری کے نقطہ نظر سے دیکھنے اور پرکھنے کے عادی ہو چکے ہیں. یہاں کوئی خبر نظر سے گزری ادھر ہم نے کی بورڈ سنبھالا اور اپنے ضمیر کو مطمئن کر لیا. کوئی قتل ہو گیا تو مقتول کے اہل خانہ کی تصاویر فیس بک پر لگا کر اپنا فرض پورا کر لیا، کوئی ادبی شخصیت دنیا سے رخصت ہوئی جابجا ان کی ادبی خدمات پر مضامین بکھرے ہوں گے. کوئی قومی مسئلہ سامنے آیا تو ہم وقت ضائع کئے بغیر دو سیاسی جماعتوں میں بٹ کر آپس میں گتھم گتھا ہو جاتے ہیں. کسی بھی قسم کا مسئلہ ہو، جتنا بھی سنجیدہ ہو اس کو آپ صرف تین مراحل میں نپٹا سکتے ہیں؛ بحث، اختلاف اور اختتام. ہماری مجموعی رویہ یہ بن چکا ہے کہ ہم کسی مسئلے کے حل کی جانب پیش قدمی کرنا ہی نہیں چاہتے، ذہنی طور پر ہم اذیت پسند افراد کا گروہ ہیں. اس بات کی تصدیق کے لئے آپ کوئی بھی اور کسی بھی وقت کوئی خبرنامہ یا فیس بک کھول کر دیکھ لیں ہر بری خبر کو آپ بریکنگ نیوز پائیں گے. کیا ہمارے معاشرے سے خوشی کا وجود اٹھ چکا ہے یا ہم اس میں زیادہ دلچسپی نہیں رکھتے؟ 
روزمرہ کے اچھے برے واقعات ذہن کو بری طرح متاثر کرتے ہیں. سارا دن یہی دیکھتے دیکھتے گزر جاتا ہے کہ کسی کا باپ قتل ہوا ہے، کسی کا بیٹا لاپتہ ہو گیا ہے، کسی حادثے میں لوگ جاں بحق ہوئے ہیں. اس بات کا مطلب ان معاملات کی سنجیدگی سے انکار مقصود ہر گز نہیں ہے. محض شور مچانا بھی ہرگز اس کا حل نہیں ہے. 
ہم دن میں کئی مرتبہ بچوں سے جنسی زیادتی کی خبریں دیکھتے ہیں مگر کتنے ہی لوگ ہیں جنہوں نے اپنے آس پاس کے بچوں کو اس ضمن میں کوئی آگاہی دی ہو اپنا فرض سمجھ کر. 
زندگی جوشی غم، اتار چڑھاو سے عبارت ہے. کسی ایک طرف جھکاو توازن کو بگاڑ سکتا ہے. حالات حاضرہ سے آگاہی بہت ضروری ہے مگر اس میں متشدد رویہ مت اپنائیں،خوشی کو خود پر حرام مت کریں. یقین کریں بری خبر کے علاوہ اچھی خبر بھی بریکنگ نیوز بن سکتی ہے. جب تک دنیا میں انسانی وجود ہے واقعات کا تسلسل بھی نہیں رکے گا. شور مت مچائیں، حل ڈھونڈنے کی کوشش کریں. بحث سے پرہیز کریں، آگاہی پھیلائیں. متنازعہ گفتگو پر کان مت دھریں، اپنا فرض پورا کریں. ہر واقعے کے پیش منظر پر ماتم مت کریں، پس منظر پر بھی نظر دوڑائیں. 






Comments