پروفیسر نسیم شاہد اور سارتر کے مضامین



...


 پروفیسر نسیم شاہد کا نام کسی لفظی تعارف کا محتاج نہیں ہے۔ ان کا کام بیک وقت کئی سمتوں میں ہے۔ غزل بھی ان کا حوالہ ہے،نظم بھی،ایک جہان ان کو انکے کالم نگاری(ان کہی) کے حوالے سے جانتا ہے،افسانہ نگاری بھی ان کا حوالہ ہے اور ترجمہ نگاری بھی اور پروفیسر صاحب ملتان کی ادبی تاریخ کا ایک مستند حوالہ ہیں۔
پروفیسر نسیم کا پہلا شعری مجموعہ "آئینوں کے شہر میں پہلا پتھر" اور کم و بیش پچیسں سال کے وقفے کے بعد ان کے دوسرے شعری مجموعہ "تیری یاد کا سمندر" نے قارئین سے داد وصول کی۔ان کی شاعری کا کینوس وسیع اور لفظ سادہ اور عام فہم ہیں ۔کالم نگاری کی بات کی جائے تو اب تک "ان کہی" کے عنوان سے دس ہزار سے زائد کالم ملک کے صف اول کے اخبارات میں چھپ چکے ہیں ۔
"سارتر کے مضامین " کے نام سے پروفیسر صاحب کی ایک کتاب 1990 میں ملتان سے  کاروان ادب سےشائع ہوئی اور فی الحال بازار میں اس پرنٹ دستیاب نہیں ہے۔۔یہ ترجمہ اپنی نوعیت کی شاندار کتاب ہے۔اس کتاب میں سارتر کے آٹھ مضامین کے ترجمے شامل ہیں جو وجودیت پر ہیں ۔ فہرست میں شامل مضامین یہ ہیں : کیوں لکھا جاے،وجودیت، آزادی اور ذمہ داری ،خدا بنیے کی خواہش 1،خدا بننے کی خواہش 2،وجودی نفسیاتی تجزیہ ،اخلاقی الجھنیں، سوراخ ۔ عام تاثر یہ ہے کہ ترجمے سے تحریر کا حسن گہنا جاتا ہے مگر اس کتاب کے شاندار ترجمے لکھاری کے رواں قلم اور مضمون پر گرفت گواہی دتیے ہیں ۔ فلسفے کے اصطلاحات کو نہایت جامع اور آسان پیرائے میں بیان کیا گیا ہے ۔ہر مضمون کے آخر میں اشاریہ لکھا گیا ہے جس سے وجودیت جیسے پیچیدہ مضمون کو سمجھنا اور آسان ہو جاتا ہے ۔
اس کتاب کا دیباچہ "وجودیت اور سارتر" جو کہ سترہ اوراق پر مشتمل ہے انتہائی شاندار اور دقیق نثر پارہ ہے۔ شروعات میں سارتر اور وجودیت کے تعلق کو انتہائی سادہ اور پر اثر الفاظ میں بیان کیا گیا ہے ،جیسے جیسے بات بڑھتی ہے یہ واضح ہوتا ہے پروفیسر نسیم شاہد نے سارتر کی ہر بات سے اتفاق نہیں کیا، بلکہ کچھ باتوں سے اختلاف بھی کیا ہے اور یہ صرف اختلاف براے اختلاف نہیں ہے۔ہر بات مستند حوالوں اور پوری ذمہ داری سے کی گئی ہے ۔وجودیت اور سارتر کے حوالے سے مختلف گرہیں کھولنے کی سعی کی گئی ہے جو ذہن میں مختلف سوالات کو اجاگر کر کے سوچئے پر مائل کرتی ہیں جو کہ اس ضمن میں پروفیسر صاحب کا خاصہ ہے۔
تراجم کے حوالے سے یہ کتاب وجودیت پر اردو ادب میں ایک شاندار اضافہ ہے بالخصوص فلسفے کی کے طالب علموں کےلئے ۔






Comments