نور محل-وقت کا سفر



...


ثقافتی ورثہ کے ذریعے کسی بھی قوم کے ماضی میں جھانکا جا سکتا ہے. یہ مختلف اشکال (ادب، فنون لطیفہ) میں نسل در نسل منتقل ہوتا ہے. اس حوالے سے پاکستان ایک باافراط خطہِ زمین ہے. وزارتِ ماحولیات کی رپورٹ کے مطابق وفاقی حکومت کی سرپرستی میں 389 جگہیں ثقافتی ورثہ ہیں جبکہ 444 جگہیں صوبائی حکومتوں کی زیرِ نگرانی ہیں.
ریاست بہاولپور (1883-1955) پاکستان میں ثقافتی ورثے کی ایک عظیم الشان اور گراں قدر مثال ہے. یہ دریائے راوی کے کناروں سے ہوتا ہوا صحرائے چولستان سے جا ملتا ہے. ریاست بہاولپور کے نوابوں نے اپنے ترکے میں شاندار فنِ تعمیر کے بیش بہا نمونے چھوڑے ہیں. نور محل، دربار محل، گلزار محل، فرخ محل، دریا محل اور سینڑل لائبریری ایسی عمدہ اور رفیع الشان مثالیں ہیں جو بہاولپور کو حقیقی معنوں میں ثقافتی ورثے کی ایک تحیر آفریں مثال بنا دیتے ہیں. بہاولپور کا فنِ تعمیر اسلامی اور اٹالین طرزِ تعمیر کا انوکھا امتزاج ہے جس میں کہیں کہیں مغل طرزِ تعمیر کا رنگ بھی جھلکتا ہے.
نور محل بہاولپور کے تمام عجائبات میں سب سے نادر نمونہ ہے. یہ تقریباً ڈیڑھ سو سال پرانی پروقار اور پرشکوہ عمارت ہے. آثارِ قدیمہ کے محکمہ کے مطابق اسے حال ہی میں پنجاب میں ثقافتی ورثے کے طور پر مطلع کیا گیا ہے. یہ محل نواب صادق محمد چہارم کے دورِ حکومت میں تعمیر کیا گیا تھا. نواب صاحب ریاست بہاولپور کے شاہجہان کہلاتے تھے..
مسٹر ہینن (پورا نام معلوم نہ ہو سکا) نے اس خوبصورت عمارت کا نقشہ بنایا تھا. اس کی بنیاد 1872 میں رکھی گئی اور یہ محل 1875 میں مکمل ہوا. یہ 1.2 ملین روپے کی لاگت میں مکمل ہوا. اس کا رقبہ 44600 مربع فٹ ہے. اس محل کی بنیادوں میں اس کا نقشہ اور اس وقت کے رائج سکے دفن ہیں.
نور محل دو منزلہ عمارت ہے بشمول ایک تہ خانے کے. اس محل کے کمروں کی مجموعی تعداد 32 ہے جس میں سے 14 کمرے تہ خانے میں ہیں.چھ برآمدے اور 5 خصوصی گنبد اس محل کی شان و شوکت میں مزید اضافہ کرتے ہیں. اندرونی چھت کے نقش و نگار انتہائی پیچیدہ ہیں جسے مختلف رنگوں کا میلان انتہائی دیدہ زیب بناتا ہے.زیادہ تر فرنیچر انگلستان اور اٹلی سے منگوایا گیا تھا. آئینوں کے لیے بیلجیئم کا انتخاب کیا گیا. کمروں کی آرائش دبیز قالینوں سے کی گئی. نور محل ایک وسیع و عریض اور خوش منظر باغ کے وسط میں ایستادہ ہے. نواب بہاول خان پنجم نے اس محل سے متصل ایک مسجد تعمیر کروائی تھی اور یہ ایچیسن کالج کی مسجد کی طرز پر بنائی گئی ہے.
نور محل نواب صادق محمد عباسی چہارم کی محبوب بیوی ملکہ نور کے لئے تعمیر کروایا گیا تھا. شومئ قسمت سے ملکہ کا قیام اس محل میں ایک شب سے زیادہ نہیں تھا. اس کی مصدقہ وجہ یہ ہے کہ صبح کے وقت ملکہ نور نے بالکونی سے بستی ملوک شاہ کے قبرستان کا اندوہ گیں منظر دیکھا تو اس محل میں مزید قیام سے انکار کر دیا اور اس وقت سے 1955 تک نور محل سرکاری تقریبات اور غیر ملکی سفیروں کے مہمان خانے کے طور پر استعمال ہوتا رہا. تقریبات اور درباری کارروائیوں کے دوران نواب صاحب کے لیے ہال کمرے کے وسط میں ایک نقرئی کرسی رکھی جاتی تھی.
ریاست بہاولپور جب پاکستان میں ضم ہوئی تو نور محل محکمہ اوقاف کے ماتحت آ گیا. عدالتی حکم کے مطابق یہ محل عرصہ دراز تک مقفل رہا اور اس دوران اس کا بیش قیمتی سامان چوری ہو گیا. 1971 میں یہ محل پاک فوج کو عارضی بنیادوں پر لیز پر دیا گیا جو 1977 میں پاک فوج نے 119 ملین روپے میں خرید لیا. یہ محل مقفل ہونے کی وجہ سے شکست و ریخت کا شکار جس کی بحالی میں پاک فوج نے اہم کردار ادا کیا ہے.
نور محل میں بہت قابلِ دید اشیاء ہیں جن میں نوابوں کے ذاتی استعمال کی اشیاء، پرانی تلواریں، ریاست کے سکے، پرانا فرنیچر اور پیانو سرِفہرست ہے. محل میں ایک قد آدم دیوار ہے جس پر نوابوں کی مختلف ادوار کی تصویریں آویزاں ہیں. محل کی چھت سے بہاولپور شہر کا سحر انگیز نظارہ کیا جا سکتا ہے. رات کے وقت محل کی روشنائیاں اس عمارت کی خوبصورتی اور دلفریبی میں کئی گنا اضافہ کر دیتی ہیں.
میجر جنرل شجاعت ضمیر کی کتاب "slight in the sand of Cholistan" بہاولپور کے فنِ تعمیر پر ایک جامع تحریر ہے.





Comments