قرنطینہ کی تنہائی



...


قرنطینہ میں مقید ہوئے شاید دو دن ہوئے ہیں یا کئی سال. تنہائی میں گردشِ شب و روز تو وہی رہتی ہے مگر وقت کا پیمانہ بدل جاتا ہے جیسے مارکیز کے ہاں تنہائی کے سو سال بیتے تھمارکیز کی تنہائی میں انتظار تھا اور قرنطینہ کی تنہائی خوف میں لپٹی ہوئی ہے، اندیشوں میں گھری ہوئی ہے. اس تنہائی نے مذہب، سائینس،ماحول، سیاست اور انسانیت کو ایک نئی نظر سے دیکھنے کی فرصت مہیا کی ہے.
جو قومیں سائنس کے میدان میں پیچھے ہیں ان میں اس تنہائی سے لڑنے کی قوت مدافعت بھی کمزور ہے. 
کعبہ، کلیسا، مسجد اور گردوارے ویران ہیں اور ابھی تک قیامت کا سورج سوا نیزے پر نہیں آیا. اس تنہائی نے مذہب اور سائنس کے فرق اور استعمال کو واضح کیا ہے. ماحولیاتی تبدیلی پر غور کرنے کا وقت اب میسر ہوا ہے تو محسوس ہوا کہ واقعی سنگین غلطی ہوئی ہے اور قدرت نے سب کو ان کے وقت میں قید کر دیا ہے. 
خود کے ساتھ بیٹھنے کا وقت ملا ہے تو ایک بے معنی خاموشی اور بے ربط گفتگو درمیان میں ہے جیسے دو اجنبی پہلی مرتبہ مل رہے ہوں . آہستہ آہستہ آشنائی ہو گی مگر اس وقت تک ایک اجنبی کے رخصت ہونے کا وقت ہو چکا ہو گا. اب ہوا چلنے کا احساس بھی ہونے لگا ہے ، بارش کی بوندوں کی آواز بھی سنائی دیتی ہے اور گھاس کا رنگ بھی مزید گہرا ہو گیا ہے. 
چار دیواروں کے اندر زندگی کسی اور سیارے پر زندگی کا احساس دلاتی ہے جہاں قید تنہائی ہے، وقت ہے اور اسے گزارنا ہے یا کتاب، فلم، موسیقی، شاعری یا انٹرنیٹ جیسے چند عناصرِ حیات موجود ہیں. سائیبر سپیس نے مصروفیت کی دھند میں لپٹے ہر رابطے کو بحال کیا ہے. پرانے مشاغل کو ماضی کی الماریوں سے جھاڑ پونچھ کر پیش کیا ہے. انٹرنیٹ کی کھڑکی کھول کر اپنی پرانی دنیا پر بھی نظر ڈال لیتا ہے. اس سیارے پر بسنے والا انسان اب زندگی سے محبت کرنے لگا ہے اور خواب دیکھنے لگا ہے. 






Comments