عمران کی شاعری



...




بہت دن ہوئے عمران شمشاد کی کتاب "عمران کی شاعری" موصول ہوئی تو کتاب پڑھنے اور یہ جاننے کا موقع ملا کہ کراچی کے ادبی منظر نامے پرایک ایسا نوجوان شاعربھی موجود ہے جو زیست کے شب و روز اپنی شاعری میں اس انداز سے ڈھالتا ہے کہ غزلوں اور نظموں کے الفاظ احساس سے تر محسوس ہوتے ہیں -  منفرد لب و لہجہ کا یہ نوجوان شاعر روایتی شعری اسلوب سے  ذرا ہٹ کر اپنا راستہ بناتا ہوا نظر آتا ہے ۔ معاشرے کے جس  طبقے کی نمائندگی کی جھلک اس کے کلام میں نظر آتی ہے ، پہلے بھی اس پر بہت کچھ لکھا چکا ہے مگر عمران شمشاد نے جن موضوعات پر قلم اٹھایا ہے وہ آج کے دور کا المیہ قرار دئیے جاتے ہیں جو "سڑک" چھاپ سے لے کر کے ملک صاحب تک بدلتے ہوۓ انسانی رویوں کا عکاس ہے - عمران شمشاد جدیدیت کا علمبردار ہے مگر وہ روایت کا دامن بھی نہیں چھوڑنا چاہتا - 

عمران کی شاعری حقیقت پسندانہ خیالات کی عکاسی کرتی ہے ، عمران نے زندگی کے مشاہدات و تجربات کو الفاظ کے موتیوں کی مالا اس طرح پہنائی ہے کہ ہر لفظ آبگینہ احساس نظر آتا ہے ۔ عمران کی تشبیہات حقیقی زندگی کے استعارے ہیں ، اس کے کلام میں دور حاضر کا شعور ملتا ہے ، یہ بات محسوس کی جا سکتی ہے کہ عمران صاحب بصیرت اور حساس شاعر ہے ۔ وہ چلتے پھرتے اُٹھتے بیٹھتے حقیقی کرداروں کی لفظوں کی مدد سے سچی تصویریں بناتا ہے اور زمین کی تہوں میں چھپی کڑوی سچائیوں کو لطیف پیرائیوں میں ڈھالنے کا  ہنر جانتا ہے  ۔ یہ کس قدر عجیب بات ہے کہ "دنیا بھر کے دکھ کا حاصل" صرف ایک نظم ٹہری ۔

 عمران شمشاد کے یہاں جب دل میں چھپے درد کی کسک ، ادھوری خواہشوں کی تکمیل اور مسافتوں کا ادراک بصارتوں کے آئینہ خانے سے عکس بن کے جھلکنے لگا تو وہیں گمان کی "ایک تتلی اڑی" اور زمان و مکاں  کے دائروں میں بھٹکتی بھٹکتی اپنے رنگ گنوا بیٹھی اور منظر "کالا" ہو گیا ۔ اچانک اسے "ٹک ٹک کھٹ کھٹ ٹھک ٹھک دھک دھک" کی آوازیں سنائی دینے لگیں اور اسے محسوس ہوا کہ جیسے اس پر اسرار ذات کھلنے لگے اور اس کا دل روشن ہونے لگا ہے ، اس کے اشعار سے شعاعیں پھوٹنے لگیں اور اسے علم ہو گیا کہ اپنے خوابوں کی تکمیل میں سب سے بڑی"رکاوٹ" تو "میں" خود تھا جسے کوئی پکار پکار کر کہتا رہا تھا کہ "آؤ فرصت ہے کوئی بات کریں" مگر وہ"بے نیازی" کا پیکر بنے زندگی کے کینوس پر خواہشوں کے پرندے بنا کر اڑاتا رہتا ہے

مارکسیت اور اشتراکیت کی دھول میں اٹا اکیسویں صدی کا نیا انسان پرانے آدمی سے آشنا ہے اور نہ ہی روایتی قدروں اور اجلی رسموں کا داعی ۔ گروہی تعصبات، طبقاتی تضاد، نسلی امتیاز اور فرقہ پرستی اس کے لیے ناقابل برداشت جبر ہے جبکہ سہولت کاری، تیز رفتاری اور خود غرضی اس کی پہچان ۔ عمران شمشاد بدلتے ہوئے انسانی رویوں سے خوف زدہ ہے ، وہ "انسان اور مشین" کے بڑھتے ہوئے تعلق سے خائف ہے ۔ وہ دیکھتا ہے کہ "پارکوں میں تالے ہیں" اور بچے "بٹنوں" سے کھیل رہے ہیں اور بڑے موبائل میں منہ دیئے بیٹھے ہیں ، پیار محبت،  رشتے ناتے ، کھیل سپاٹے سب داؤ پر لگے ہیں ، عمران سیگریٹ سلگھتا ہے اور دھویں سے بننے والے بے ترتیب نقش و نگار میں انسان کا سراغ ڈھونڈنے لگتا ہے مگر اس کے چاروں طرف مشینوں کی آوازوں کا شور ہے اور یہ شور سماعتوں کو نگل گیا ہے ، احساس کو کھا گیا ہے اور جذبوں کے رنگ پھیکے پڑنے لگے ہیں ۔ وہ سوچنے لگتا ہے کہ یہ آلات ہی انسان کی خوشی کا باعث ہیں اور یہی غمِ کا سبسب - انسان معدوم ہو رہا ہے، زندگی خوابوں، خیالوں، خواہشوں، خراشوں، خوشبوؤں، تقاضوں، آہوں، سانسوں اور وعدوں سے تعبیر کی جاتی ہے مگر عمران شمشاد کہتا ہے "یہ سب باتیں جھوٹی نکلیں" یہاں تو بس "زخم دینے والے لوگ ہیں" جو " خبر کا رخ" پھیرنے میں تردد سے کام "نہیں" لیتے ۔

عمران شمشاد "سفید سادہ اداس کاغذ" پر اپنے لہجے کی وحشتوں کو آڑی ترچھی "لکیریں" کھینچ کر رقم کرتا جاتا ہے ۔ یہ لکیریں وہ رستے ہیں جہاں جہاں اس کے قدم پڑے ہیں  مگر سچ تو یہ ہے کہ اس کے خواب اب بھی تعبیر کے انتظار میں سانس لے رہے ہیں ۔







Comments