نعمان فاروق کی غزل



...


نعمان فاروق کی غزل

خورشیدربانی

ستر کی دہائی میں اردو غزل نے جو نئی کروٹ لی ،اس نے بعد میں آنے والوں کو اس طرح اپنی گرفت میں لے لیا کہ آج اکیسویں صدی کی دوسری دہائی کے غزل گو بھی اس کے حصار سے باہر نہیں نکل پا رہے۔اس نئے طرزِ احساس نے جہاں غزل کو معانی کے نئے ذائقوں سے روشناس کرایا وہیں لفظیات،اسالیب،تکنیک اور مفاہیم کے سطح پر بھی نئی دنیائیں دریافت کی جانے لگیں۔ اس غزل نے آنے والے زمانے کے لیے بشارتوں کا کام کیا اور نئی غزل کے لیے نئے راستے اور نئی منزلیں متعین کر دیں۔ڈاکٹرارشد محمود ناشاد لکھتے ہیں کہ’’جدید تر غزل نے اپنی شناخت کے لیے نہ تو لسانی تجربو ں کو بنیاد بنایا ہے اور نہ ہی واقعیت زدگی ایسے رجحانات کو۔اس میں رنگِ میر کی بازیافت کی شعوری کوشش کا عمل دخل نظرآتا ہے نہ یہ اسالیب غالب و اقبال کے بوجھ تلے دبی ہوئی ہے۔یہ غزل اپنے رنگ و روغن اور ظاہر وباطن کے لحاظ سے منفرد اور مختلف ذائقہ رکھتی ہے۔جدید تر غزل نے غزل کی روایت کو استحکام اور توانائی عطا کی ہے‘‘۔(جدید تر اردو غزل کا فنی مطالعہ۔ص۲۸۵)۔

نوے کی دہائی میں لکھی جانے والی غزل بھی اسی نئے طرزِ احساس اورنئے رنگ سے جڑی ہوئی ہے۔اس دہائی کے شعرا کے ہاں موجود تراکیب سازی، علامتیں،استعارات اور معنوی تناظرات عصری میلانات کوموثر طور پر پیش کرتے نظر آتے ہیں۔ اس دہائی میں سامنے آنے اہم شعرامیں ایک ایسا شاعر بھی سامنے آیا جس نے اپنی شاعری کا آغاز حمد نگاری جیسی مشکل صنف سخن سے کیا اور یکے بعد دیگرے دو کتابیں قارئین کی خدمت میں پیش کر دیں۔حمد نگاری میں بھی نعمان فاروق نے رنگِ جدید اپنایا اور نئی غزل کے سنگ سنگ چلا۔میرا خیال ہے کہ اگر وہ اسی دور میں حمد کے ساتھ ساتھ غزل میں بھی طبع آزمائی شروع کر دیتا تو آج اس کا شمار بھی غزل کے اہم شعرا میں ہوتا کہ وہ غزل کا رمز شناس ہے اوراس نے جو غزل کہی ہے وہ معاصر غزل کا نہ صرف تسلسل ہے بلکہ مجھے کہنے دیجے کہ یہ نئی غزل کی ترقی کی طرف گامزن ہونے کا اشاریہ بھی ہے۔میں اس کے چند شعر پیش کر کے بات کو آگے بڑھاتا ہوں تا کہ آغاز میں ہی قارئین پر واضح ہو جائے کہ غزل میں اس کے تیور کیسے ہیں:

شب سمجھتی ہے مری بات کی ساری پرتیں

دن پہ کھل ہی نہیں پاتے ہیں اشارے میرے

ایک لمحے کو بھی مڑ کر نہیں دیکھا اس نے 

جانے والے کو بہت دور تلک دیکھا ہے

یوں تو دیکھی ہیں مرے یار سبھی کی آنکھیں

اس کی آنکھوں سی کہاں اور کسی کی آنکھیں

کیا خبر دھوپ کی عاد ت کو بگاڑا کس نے

بن بلائے مرے آنگن میں چلی آتی ہے

کب سے خوشبو نظر نہیں آئی 

اس کے پہلو میں سو رہی ہو گی

اردو غزل میں طبع آزمائی کا شوق ہر نئے شعر کہنے والے کو ہوتا ہے۔شاید اس کی وجہ غزل کی مخصوص ہیئت ہو جو بظاہر تو قافیے اور ردیف کی وجہ سے آسان نظر آتی ہے مگر حقیقت میںیہ مشکل اس لیے بھی ہے کہ اس مخصوص ہیئت کے اندر رہتے ہوئے نیا مصرعہ کہنا یعنی نئی بات کرنا کاردشوار ثابت ہوتاہے۔شعروسخن کی وادی میں وارد ہونے والے نووارد اپنے آپ کو نمایاں کرنے کے لیے عموماً کم مستعمل بحروں،منفرد ردیفوں اور زبان کی کاری گری کا سہارالیتے ہیں۔یہ نسخہ وقتی طور پر تو چل جاتا ہے مگر دیرپانہیں ہوتا۔کچھ لوگ فارسی آمیزاردوسے مرکبات وتراکیب تراش کر غزل کو بھاری بھرکم کرنے کی کوشش کرتے وقت یہ بھول جاتے ہیں کہ زبان وہی قبول عام کا درجہ حاصل کرتی ہے جو عام بول چال کی ہواور جسے ہر خاص و عام سمجھتا ہو۔اردو کے مقبول شعروں کی فہرست مرتب کرکے دیکھ لیں،آپ کو زیادہ تراشعار وہ ملیں گے جن کی زبان سادہ اور روزمرہ استعمال کی ہے۔

نعمان فاروق کی غزل بھی لہجے کے سادگی اور بیان کی رعنائی کے باعث قاری کا دامن دل کھنچتی ہے۔اس نے نہ صرف مصرع سازی میں تصنع سے گریز کیابلکہ مرکبات اورفارسی تراکیب سے بھی اپنی غزل کو مکمل طور پر دور رکھا۔یوں فطری روانی اور بہاؤ نے اس کے اشعار کو خالص پن عطا کر دیا ہے۔ اس کا یہ مجموعہ شاید اردو غزل کا واحد مجموعہ ہے جس میں سرے سے اضافت کا استعمال نہیں کیا گیا اور مزے کی بات یہ ہے کہ اس کے باوجود غزل کا ایجاز و اختصار اپنی جگہ موجود ہے اور اس کی فصاحت پر بھی کہیں فرق نہیں آیااور اس پر مستزاد یہ کہ اس کا کہا ہوا ہر لفظ سیدھا دل میں ترازو ہو جاتا ہے:

اسی کو مانگتا ہوں ہر دعا میں 

وہ لڑکی جو مرے قابل نہیں ہے

درد کا کوئی تو رشتہ ہے قلم سے نعمان

لفظ لکھتا ہوں تو آنکھوں میں نمی آتی ہے

میری آواز کھو گئی ہے کیا

کوئی رکتا نہیں بلانے پر

نعمان کی غزل پر اگرچہ نئی غزل کی روایت کے اثرات نمایاں ہیں لیکن اس کی انفرادیت کے نقوش بھی روشن ہیں۔نعمان فاروق داخلی اور خارجی تجربات کے اشتراک سے اپنی غزل کا خمیر اٹھاتا ہے اور اپنی واردات کو شعر بناتے ہوئے قرینے کا دامن ہاتھ سے نہیں جانے دیتا۔نعمان فاروق کے ہاں ایک اور بات جو مجھے نظر آتی ہے وہ احساسات کا ہنروری کے ساتھ پیش کرنا ہے۔وہ اپنے محسوسات اس طرح بیان کرتا ہے کہ ان پہ تمثال کاری کا گمان گزرتا ہے۔ایسی تمثال کاری کہ جس میں عصر ی میلانات عکس ریزہیں۔تصویر سازی کا یہ عمل اگر فنی مہارت کے ساتھ ترتیب پا جائے تو قلب و نظر کی تسکین کا سامان بن جاتا ہے اور یہی فنکار کی کامیابی ہوتی ہے۔نعمان فاروق اس حوالے سے بھی کامیاب نظر آتا ہے کہ اس نے جوتصویری پیکر تراشے ہیں وہ اس قدر مکمل اور دل کش ہیں کہ دیکھنے والے کونہ صرف اپنی طرف متوجہ کرتے ہیں بلکہ اس کے لیے دل و نگاہ کی تسکین کے اسباب بھی بہم پہنچاتے ہیں۔

نعمان فاروق نے اس نام نہاد جدید شاعری سے اپنا دامن بچائے رکھا جو جدید شاعری کے نام پر آج کل شاعری کے قارئین کے سر پر مسلط کی جا رہی ہے۔ ایسی شاعری میں لفظ کے بے ڈھنگے پن کو ہی سب کچھ سمجھ لیا جاتا ہے۔زیادہ تر شعرا تو نئے نئے لفظوں کے استعمال ہی کو جدت تصور کر لیتے ہیں اور ایسا کرتے ہوئے وہ یہ سرے سے بھول جاتے ہیں کہ جدت بغیر روایت کے کوئی معنیٰ ہی نہیں رکھتی ۔ اس نے اپنی جدت کا چراغ روایت کے الاؤ سے روشن کیا ہے ۔جس کی روشنی اور حدت اس کے اشعار میں جابجا ملتی ہے۔یہ روشنی نہ صرف اس کی ذات کا احاطہ کیے ہوئے ہے بلکہ اس کا اردگرد بھی اس کی لپیٹ میں ہے۔ لیکن وہ اسی پر اکتفا نہیں کرتا بل کہ بساط بھر تازہ کاری کی کوشش میں بھی لگارہتا ہے،شاید اسے اس بات کا شدت سے احساس ہے کہ تازہ کاری ہی وہ وصف ہے جو شعر کو زندہ و جاوید رکھنے کی سب سے زیادہ صلاحیت رکھتا ہے۔

نعمان فاروق کا ایک اختصاص دیہات نگاری ہے ۔غزل کے قارئین جانتے ہیں کہ اردوغزل دلی اور لکھنو جیسے شہروں کی پیدا وار ہے اور غزل کے ابتدائی تمام تر شعرا کا تعلق شہری زندگی سے تھا ۔کلاسیکی شعرا میں سے شاید ہی کوئی ایسا غزل گو ہو جو دیہات سے تعلق رکھتا ہو ۔ یوں اردو غزل میں دیہات نہ پنپ سکا۔ نعمان فاروق نے اپنی غزل میں شعوری طور پر دیہی زندگی کو پیش کرنے کی کامیاب کوشش کی ہے اس سلسلے میں چند شعر دیکھیے: 

اس کی خوشبو کی چاپ سنتے ہی

پھول کھلنے لگے تھے بیلے میں

کہیں سرسوں کا طلاطم کہیں کاہو کا سکوت

ایک سے ایک ہیں گاؤں کے نظارے میرے

پیڑ ہیں وجد میں سبھی نعمان

کون ٹھہرا ہوا ہے گاؤں میں

’’پیاس ‘‘ہمارے ہاں لکھی جانے والی نظم اور غزل کامقبول استعارہ ہے۔نعمان فاروق کی غزل میں بھی یہ استعارہ ہمیں جابجا ملتاہے لیکن اس فرق کے ساتھ کے باقی شاعروں کے ہاں جہاں پیاس کا لفظ آتا ہے اس کے تلازمے عموماًکربلا کے پس منظر میں سر ابھارتے ہیں جب کہ نعمان کے ایسے بیشتر شعروں میں اس کا اپنا لوکیل نظر آتا ہے ۔ اس کے ہاں پیاس محرومی کی علامت ہے اوراس نے انتہائی ہنرکاری سے پانی،دریااورہونٹ ایسے لفظوں سے اس استعارے کی معنی آفرینی میں جو اضافہ کیا ہے وہ واقعی داد کے قابل ہے۔یہ محرومی صرف اس کی ذاتی محرومی نہیں ۔بل کہ وہ اپنے سماج میں زندگی کرتے عام آدمی کی محرومیوں سے بھی اچھی طرح آگاہ ہے اور یہی گواہی اس کے پختہ سماجی شعور کی علامت ہے۔وہ ایک سوچنے سمجھنے والا شاعر ہے جو پیش منظر کے ساتھ ساتھ کھلی آنکھوں سے دکھائی دینے والے منظر کے پس منظر سے بھی بخوبی آگاہ ہے۔اس کے اشعار اس کے دردمند دل کے عکاس ہیں۔

ہم نے لفظ نہیں لکھے

پیاس لکھی ہے پانی پر

اک نیا ذائقہ جنم لے گا

پیاس دیکھو ملا کے پانی میں

پانی پر پیاس لکھنی ہو یا پانی میں پیاس ملانی ہو،دونوں ہی اپنی اپنی جگہ پر اچھوتی اور نئی باتیں ہیں مگر جس خوب صورتی،ہنرمندی اور سہولت سے اس نے یہ باتیں شعر کے قالب میں ڈھالی ہیں یہ اس کی شعر کہنے کی فطری اپج کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔پیاس کے حوالے سے اس کے مزید کچھ شعر دیکھیے۔

دریا نے فرمایا ہے

پیاس مرا سرمایا ہے

ہونٹ دریا نے سی لیے تو کیا

گونج اٹھے گی میری پیاس ابھی

صحرا پر موقوف نہیں

دریا بھی تو پیاسا ہے

پیاس کے ہاتھوں مرا قتل ہوا ہے نعمان

دوست دریا تھے مگر پاس نہ آیا کوئی

مگر ان تمام تر محرومیوں کے باوجودبھی اسے جو کچھ میسر ہے وہ اسی پر قانع ہے ۔وہ قناعت پسندی کا دامن تھامے ہوئے ہے جو اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ ایک پرامیداورخوش امکان آدمی ہے۔یہ خوش امکانی اس کے لیے سرشاری کا باعث بھی ہے اور سر مستی کابھی۔اور شاید اسی خوش امکانی کی بدولت وہ اپنی محرومیوں کو درخوراعتنا نہیں سمجھتا۔

اسے گلے سے لگانا تو خواب ہی ٹھہرا

یہی بہت ہے جو اس سے کلام کر آئے

مصرع کی تخلیق اچانک اوربے ساختہ ہوتی ہے۔جیسے کلی کا اچانک چٹکنااورپھول بن جانا،یاجیسے کسی کا اچانک آنکھوں کے رستے چپکے چپکے دل میں اترآنا،ایسے میں انتخاب اور چناؤ کا ہوش کسے ہوتا ہے ۔یہ بے ساختگی نعمان فاروق کی غزل کا خاصہ ہے۔اسی بے ساختگی کے باعث اس کے کئی شعر سیدھے دل کو لگتے ہیں۔

نئی غزل کی روایت میں مضامین و مفاہیم کی سطح پرجس تازگی نے ظہور کیا ہے نعمان فاروق کی غزل اسی روشنی میں سفرکرتی نظر آتی ہے۔وہ ایک با شعورلکھاری ہے اور فنی باریکیوں سے آگاہ بھی،سو اس کی غزل ابہام یا کسی ’’اور‘‘ اثر سے اپنادامن بچاتے ہوئے آگے اور آگے بڑھ رہی ہے،میں اِس سفر میں اُس کی کامیابی کا اعلان کرتا ہوں کہ وہ ان راستوں اور منزلوں سے ایک ہی جست میں گزر آیا ہے جہاں سے گزرنے والے اپنی زندگیاں صرف کر بیٹھتے ہیں۔






مصنف کے بارے میں


...

خورشیدربانی

11.08.1973 - | shor kot,dera ismail khan





Comments