سرائیکی شاعری میں نعت رنگ



...


خورشیدربانی

سرائیکی شعر وادب میں نعت رنگ کا ظہور بھی اتنا ہی پرانا ہے جتنا خود سرائیکی ادب۔سرائیکی زبان کی پہلی دستیاب کتاب’’نورنامہ‘‘ ہے ۔اس طویل نعتیہ نظم کے مصنف کے حالات زندگی کے بارے میں اگرچہ تاریخ تاحال خاموش ہے تاہم محققین اس کاسنِ تصنیف 500ھ بتاتے ہیں جبکہ معروف محقق حافظ محمود شیرانی کا کہنا ہے کہ یہ ’’نورنامہ ‘‘ 752ھ میں سامنے آیا ۔اس کے مصنف ملاں تخلص کرتے تھے جس کی تصدیق درج ذیل شعرسے ہوتی ہے

پنج سو سال جو گذرئیے آ ہے ہجرت باجھ رسولاں

ملاں کہے غریب وچارا کم علماواں کولوں

ڈاکٹر نصراللہ خان ناصرنے اسی شعر کو اس نور نامے کے سنِ تصنیف500 ھ کے جواز کے طور پر بھی درج کیا ہے۔اس نورنامہ کا ر نگِ سخن ملاحظہ ہو

ہویا سوار براق دے اُتے ونج چڑھیا اَسمانے

حضرت تائیں ظاہر کیتس کل اسرار خزانے

نواسمان کیتے رب پیدا ہر اَسمانے چڑھیا

گنبد عرش ٹکانیں ہویا قدم نبی ؐجاں دھریا

ساز وضوں ڈوں نفل رکعتاں ترت گذار سدھایا

کُنڈی پانڑی ہلدے آہے جاں پھر سجدے آیا

حضرت ملاں کے قدیم نورنامے کے علاوہ حافظ مراد نابینا،امام الدین بھکوی کے نورنامے بھی آسمانِ تاریخ پردرخشاں ستاروں کی صورت موجود ہیں ۔ چانڈیہ قوم کے ایک بزرگ حضرت میاں قبولؒ اور دودے شاہ کے معراج نامے، جو چھٹی صدی ہجری میں تخلیق ہوئے، بھی قدیم سرائیکی نعت کے لازوال نمونے ہیں۔ ڈاکٹر مہر عبدالحق کے مطابق سرائیکی ادب کی جو دوقدیم تحریریں دریافت ہوئی ہیں ان میں ایک قصیدہ بردہ شریف کا ترجمہ ہے جبکہ دوسری تحریر غلام حسین کی تخلیق ’’حلیہ مبارک‘‘ہے جو ۵۵ اشعار پر مشتمل ہے۔ حضرت ملا ں کے ’’نورنامے ‘‘،اعظم چانڈیہ کے ’’حلیہ مبارک ‘‘ اور پیارا شہید کے ’’معراج نامہ ‘‘ جیسی نعتیہ روایت کے ساتھ ساتھ قدیم مذہبی کتب اور رسائل میں بھی نعتیہ کلام موجود ہے ۔اعظم چانڈیو کا نمونہ کلام دیکھیے

دیکھ جمال نبی سرورؐ دا سِجھ تے چن شرماوِن

حور ملائک صدقے جاوِن پریاں گھول گھماوِن

بدن مبارک حضرت سرورؐ آہا عیبوں خالی

خالق خلقی سبھو سوہنڑی صورت سوہنڑے والی

سرائیکی شاعری کے اولین دور سے متعلق پروفیسر عامر فہیم رقم طراز ہیں ’’سرائیکی شاعری کا ارتقا تو ہوتاہی حمد باری تعالیٰ اور نعت رسولﷺ سے ہے،جتنی پرانی کہانیاں ہیں،مثنویاں ہیں،لوک قصے ہیں،سب کے آغازمیں دعا ہے کہ بارگاہِ رسالتؐ میں اسے قبولیت کا درجہ ملے‘‘۔

سرائیکی شاعری اس حوالے سے تو خوش بخت رہی ہے کی اسے معروف صوفی شعراء حضرت بابا فرید شکر گنج ؒ ،شاہ حسینؒ ، شاہ شمس سبزواری ،ؐسچل سرمستؒ ؒ ،سلطان باہو ؒ ، بابا بلھے شاہؒ ؒ اورخواجہ غلام فریدؒ جسیے نابغہ ء روزگار شخصیات کی توجہ حاصل ہوئی،ان شعراء نے سرائیکی شعر کوجس بامِ کمال تک پہنچایا اُس کی بلندی کو حدودِنظر میں تلاش کرنا مشکل ہے۔

وسدی ہر دم من میرے وچ،صورت یار پیارے دی

باغ ترا ، باغیچہ تیرا ، میں بلبل باغ تہارے دی 

اپنڑے شاہ نوں میں آپ رجھاواں،حاجت نیں پسارے دی

کہے حسین فقیر نماناں،تھیواں خاک دوارے دی

شاہ حسینؒ 

چوڈس چن ہے مونہہ محبوبی ، واہ وسیع پیشانی

ویکھن نال حیراں رہیوسے ، رنگ سارا رحمانی

جھلک ایہیں دی کون جھلے،جو ہوئی نور نشانی

سچل حسن حسیناں اُتوں،جان کیتی قربانی

سچل سرمستؒ 

ب بسم اللہ اسم اللہ دا ایہہ گہنا وی بھارا ہو

نال شفاعت سرورِ عالمﷺ چھٹسی عالم سارا ہو

حدوں ودھ درود نبیؐ تے جئیں دا ایڈا پسارا ہو

میں قربان انہاں توں باہو جنہاں ملیا نبیؐ دلارا ہو

سلطان باہوؒ 

سرکار دوعالمﷺ کی ذاتِ بابرکات کی سیرت اور شان کابیان بڑی سعادت ہے ،حضورﷺ سے محبت و عقیدت اور آپؐ کے جمالِ بے نظیرکاوالہانہ اظہار اسلامی دنیا کے شعر وادب کا طرہ ء امتیاز رہا ہے۔پاکستان میں بولی جانے والی قریبا ہر زبان کے ادب میں نعت کی روایت موجود ہے مگر سرائیکی نعت میں آقائے نامدارﷺ سے جتنی محبت،عقیدت اور شفتگی کا اظہار کیا جاتا ہے،عشق کی جو وارفتگی بیان کی جاتی ہے وہ کسی اور زبان کی نعت میں کم کم ہی نظر آتی ہے۔حضورﷺ کی ولادتِ بہ سعادت،مکمل شجرہ ء نسب، سرکار دو عالمؐ کے والد گرامی کی شادی،حضرت عبدالمطلب کو خواب میں دی جانے والی خوشخبری،حضرت بی بی حلیمہؓ کا آپؐ کو گود لینا،سفرِ شام ،حضرت خدیجہؓ سے شادی مبارک،غارِ حراکی عبادات،واقعہ ء معراج،وحی کا نزول،حلیہ مبارک کا تفصیلی تذکرہ،حضورؐ کی عادات،معمولات،اقوال،فضائل،خصائل الغرض نبی کریمؐ کے بچپن،لڑکپن سمیت پوری زندگی کے ہر لمحے کا احوال سرائیکی نعت کا موضوع بنایا گیا ہے۔زمانہ ء قدیم سے سرائیکی شاعری میں نعت نگاری کی مختلف اصناف مروج چلی آتی ہیں جن میں زیادہ تر دل بہ دل سفر کرتی رہی ہیں یا قلمی نسخوں کی صورت محفوظ ہیں تاہم ایک معقول ذخیرہ کتابی صورت میں بھی دستیاب ہے۔ سرائیکی شعر و ادب میں نعت کے لیے مولود شریف کی ترکیب رائج ہے ،اگرچہ پرانے زمانے یہ سے ایک الگ صنف کے طور پر بھی اپنا وجود منواتی رہی لیکن مجموعی طور پر ہر نعت کو مولود کہا جاتا ہے اور یہ روایت آج تک قائم ہے۔دوسری نعتیہ اصناف میں (جو غالبا سرائیکی شاعری ہی کا اختصاص ہیں) نورنامے،معراج نامے،حلیہ مبارک یا حلیہ نامہ،تولد نامہ،بارات نامہ ،وصال نامہ ،مولود شریف،تاج نامہ،درود نامہ،معجزہ معراج اور دیگر اصناف شامل ہیں ،علاوہ ازیں کافی ،رباعی،دوہڑہ،قصیدہ مثنوی اور غزل کی ہیئت میں بھی نعت لکھی جاتی رہی ہے۔ قدیم زمانے میں گھڑ والی لعل، تورہ،جوگی نامہ، طوطا نامہ، ڈھولے نامہ، سی حرفی اور محمدی بارہ ما جیسی نعتیہ اصناف بھی موجود رہی ہیں تاہم اب یہ روایت قریباً ختم ہوچکی ہے۔

گھڑوالی لعل پرانے زمانے میں سہرے کے لیے مخصوص تھی لیکن بعض شعرا ء نے نعتیہ گھڑ والیاں بھی لکھیں۔اس صنف میں بھی سہ حرفی کی طرح الف سے ی تک ایک ایک بند لکھا گیا۔مثال کے طور پر ایک قدیم گھڑ والی ملاحظہ ہو

ن۔ نت وسے مینہ کرم دا جی

پانڑی کوثر باغِ ارم دا جی

ہادی صاحب کل شرم دا جی

ساری امت دا رکھوال۔گھڑ والی لعل

(شاعر نامعلوم)

تورہ بھی ایک قدیم صنفِ شعر ہے،یہ صنف لوک گیتوں کے لیے خاص رہی ہے مگر شعراء نے اس میں بھی نعتیہ رنگ کشید کرنے کی کامیاب کوشش کی ہے اوراکثر اوقات اس میں واقعہ معراج کو ہی قلم بند کیا ۔محمد شاہ نو بہار سیری حقانی جو سرائیکی شعر وادب کا ایک بڑا نام ہے ان کا ایک نعتیہ تورہ نذرِ قارئین ہے

وصی آنڑ کھڑوتا درتے،کھڑا پڑھے درود سرور تے،سر ہیٹھاں دھر تے۔یانبیؐ جی

جُلو عرش اتے یا حبیبیؐ،تھیا فضل تے خوش ہے نصیبی،قرب قریبی۔یا نبیؐ جی

طٰہ تاج لولاک دو شالہ،بنڑیا روح الدین سبالہ،سہریانوالہ۔یانبی ؐجی

ایک اور قدیم صنف جوگی نامہ ہے جس میں حضورؐکی خدمت میں شاعر اپنے دکھ درد بیان کرتے رہے ہیں ۔مولوی نبی بخش کے جوگی نامہ کا رنگ دیکھیے

جوگی میڈا پاکوں پاک اے

خاطر جیندی کل لولاک اے

ادبوں حاضر تھی کھڑا براق اے

عاشق خود غفار اے

حوراں خدمت آیاں

اس کے علاوہ باغ شاہ اور مبارک شاہ کے جوگی نامے بھی مشہور ہیں۔طوطا نامہ بھی ایک نعتیہ صنفِ سخن رہی ہے جس کے ذریعے شاعر اپنے دل کا حال بارگاہِ رسالتؐ میں بالکل اسی طرح پیش کرتے رہے جس طرح اردو اور دیگر زبانوں کے شعراء نے بادِ صبا کے ہاتھ پیغام رسانی کو شعر کا موضوع بنایا ہے۔

بولیں طوطا نال ادب دے

اگوں میڈے شاہ عرب دے

آکھیں طوطا یار میڈے کوں 

دل دے بھیداں ڈیواں کیکوں

توں ہے واقف رازِ نہانی

نور الدین مسکین

طوطا نامہ سے ملتی جلتی ایک اور صنف ہدہد نامہ کا ذکر بھی تاریخ کے اوراق میں محفوظ ہے،احمد یار خان کے ایک قلمی ہدہد نامہ سے اقتباس ملاحظہ کریں جو بقول ڈاکٹر طاہر تونسوی حبیب فائق کے پاس موجود ہے

جیویں ہدہد مدینے دی طرف جا

تمامی حال مہجوری دے سنڑوا

کریں پہلے طواف اس یار دے توں

میرے اس یار تے غم خار دے توں

کریں بعد از ثنائش صد تحیات

کروڑاں بار تسلیمات و صلوٰت

باہاں بدھ کے ادب دے نال اوں جا

دو زانو بہہ کے سبھ احوال سنڑوا

آکھیں رو رو کے سارا ہجر دا حال

کدی حضرت اے سانول مہر توں بھال

نعتیہ ڈھولے ایک ایسی صنفِ سخن رہی ہے جس نے سرائیکی شاعری پر راج کیا ہے۔درجنوں شعرا نے نعتیہ ڈھولے لکھے مگر خادم حسین مکھن بیلوی ،ناطق،مولانا شائق،جان محمد گداز اور مولوی نبی بخش کے ڈھولے بہت مشہور ہوئے۔

م مدنی ڈھول آ ڈے دیدار ضروری

اصلوں مار مکایا ایں فرقت مہجوری

نہ کر بے پروایاں دل نہ سہندی دوری

خادم خاک نکاری،توں خلقت ہیں نوری

خادم حسین مکھن

ل لاج امت دی احمد پاک پلیسی

کھوٹی کھری امت کوں اپنڑے دامن لیسی

ہرہر اکھ وچالے سَے سَے ڈوھ تاں ڈیسی

ناطق عاجز امت کوں ایہو پار پچیسی

ناطق

ل لک چھپ ڈھولا برقعہ میم دا پایو

آپوں ملک عرب وچ احمد نام دھرایو

کیتو حسن دا جلوہ ملکاں دھوم مچایو

شائق یا دے دل وچ ڈھولا جھوک بنڑایو

مولانا شائق

سہ حرفی کو بھی ایک مقبول صنفِ شعر ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔سید امیر حیدر میرن،علی حیدر ملتانی،حافظ جمال ،حمل خا ن لغاری،سچل سرمست،فائق،شائق،سید مبارک شاہ،محمد بخش بخشا، سید شیر محمد گیلانی اور میاں رحیم بخش سہ حرفی لکھنے والوں میں نمایاں رہے ہیں۔

م محمدؐ دے ناں توں گھول گھتاں جگ سارا 

عاجز جئی کان کمینی چھوڑویس تخت ہزارا 

میں ماندی درماندی کوں ڈکھلایس روپ نظارا 

میرن شا میڈے من بھایا ماہی ماہ متار ا 

امیر حیدرمیرن 

م محمد صلی علیٰ دا ہر دم ساکوں آسرا اے

اوسے دی امید ساہاں عملاں نہ بھرواسڑا اے

اوسے دے دربار دے سائل ہتھ اساڈڑے کاسڑا اے

اوسے دے دلاسے تے حیدر ہنجوں والا ہاسڑا اے

علی حیدر ملتانی

سرائیکی شاعری میں نعتیہ سہرے کی روایت بھی قدیم ہے جن میں واقعہ ء معراج کوبیان کیا جاتاہے،اس حوالے سے محمد شاہ حقانی نو بہاری سیری کے سہرے بے مثال ہیں۔مولانا شوق جو عالمانہ نظم ونثر کے لیے مشہور تھے انہوں نے بھی109 صفحات پر مشتمل سہرا یادگار چھوڑا ہے۔

معراج مانڑے بناں معراج وے

سرتاج مانڑے بناں جگ راج مانڑے وے

آکھے محمد شاہ کیا سائیں تیڈی صفت تاں مکدی نئیں

تھیا خشک ختم مس پناں معراج مانڑے وے

محمد شاہ حقانی سیری

سہرے کے علاوہ واقعہ ء معراج کے بیان کے لیے ایک اورصنفِ سخن ’’معراج نامہ‘‘بھی معروف ہے ،قدیم معراج ناموں میں میاں قادر یار اور حاٖفظ محمد یار کے معراج نامے بہت مقبول ہوئے ہیں،نمونہ ء کلام ملاحظہ کیجیے

توں عرش فلک دا والی

تیرے ملک فلک گھر ینالی

تیڈا جبرائیل مثالی 

معراج مانڑیں بناں 

تیڈے میلے ملک افلاکی

اُتے نوری ناری خاکی

سر چھت تیڈے لولاکی

معراج مانڑیں بناں

مولوی احمد یار

توں نبی کونین سرورؐ ، پاک سید مرسلیںؐ

دینِ روشن ، شان افضل ، توں پیمبر آخریںؐ

توں نبیؐ سرتاج بہتر، یامحمدؐ خاتمیں

حوضِ کوثردا توں ساقی، ہر نبی دا پیشوا

توں اگے فریاد میڈی ، یامحمدؐ مصطفےؐ

حافظ محمد یار

سرائیکی شاعری میں’’ مولود شریف‘‘ کی روایت بھی پرانے زمانے سے چلی آتی ہے ، خواجہ فریدؒ ،محمد یار بلبل،شاطر نماناں،مجروح شاہ،جلال کلیم،خرم بہاول پوری،گلشن،کمتر,کہتر، فدوی،مولوی اعظم،احمد یار،نور محمد گدائی، صابر مبارک پوری،ولایت شاہ،مولوی عبیداللہ،مولوی کریم بخش پردیسی،خادم اور مولوی محمد صدیق امر پوری سمیت کئی شعراء نے اس صنف میں اپنے کمال کے جوہر دکھائے ہیں۔

چیتر چیت ہمیشہ کردی ،وچ مدینے جاواں میں

روضے پاک نبیؐ دے اوتوں ،اپنڑی جان گواواں میں

جیکر ہوواں حضور ول پوری سارے مطلب پاواں میں

رب رحیم کریم قادر توں ہر دم ایہو چاہواں میں

وساکھ وساکھی لوکی جاون میں ٹر پوواں مدینے نوں

جس دی دولت دین دنی سبھ ڈیکھاں اوس خزینے نوں

نور محمد گدائی

قاصد شوق کبوتر ہوے

شہر مدینے جایں میڈے یارا

خدمت پاک نبی سرورؐ دی

رو کر حال سنڑایں میڈے یارا

بہہ کر نال نیاز ادب دے

حاضر خدمت شاہ عرب دے

عرض کریں سبھ نال طلب دے 

سمجھ کے سخن اَلایں میڈے یارا

خادم

حلیہ نامہ بھی ایک قدیم نعتیہ صنف ہے جس میں حضورﷺ کا حلیہ مبارک سیرتِ رسولؐ کی روشنی میں لکھا جاتا رہا ہے،اس کا بھی ایک وقیع ذخیرہ موجود ہے۔ سرائیکی شاعری میں محمد اعظم کے ’’حلیہ مبارک‘‘ کوممتاز مقام حاصل ہے،یہ منظوم کلام چھٹی صدی ہجری کے آواخر میں لکھا گیا

نوری عالم سارا آکھے ماہ کنعانی سوہنڑاں

پَر چَن عرب دا بہت سلونڑاں،سوہنڑاں تے من موہنڑاں

لعل یاقوت لباں دی لعلی ڈیکھن دی سدھرائی

رم جھم ڈنداں دی رتی توں موتی گھول گھمائی

ہر دم حمد الہی آکھاں رب کوں خالق جاناں

جیں رب اپنڑاں دوست بنڑایا سوہنڑان ڈو جہاناں

رنگ کنڑک دا سرخی بھریا پھل لولاکی پنڈا

رنگ بھرئیے کوں ڈیکھ تھیوے پھلی تازہ شرمندہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ہنس مکھ رہے ہمیشہ سرور ؐغصہ کڈھا نہ آوے

جوش دے وقت متھے وچ ہک رگ ابھرے جنبش کھاوے

رہے نگاہ ہمیشہ جھکی اوتے ڈیکھے گاہے

پہلے کرے سلام ہمیشہ خُلق دے نال اِلاوے

مولوی عزیز الرحمن عزیز

قصہ ہرنی بھی سرائیکی شاعری کی ایک منفرد صنف ہے اور اس میں بھی متعدد شعراء نے طبع آزمائی کی ہے۔ڈتن ملتانی کے قصہ سے اقتباس ملاحظہ ہو

اول حمد ہکو سب مومن آنڑو شکر بجا

مطلب رازق خالق ہر دا سچا پاک خدا

حضرت نبی محمدؐ صاحب نبیاں دا سردار

پڑ ھو درود صلوٰۃ ہمیشہ مومن بے شمار 

معروف لوک داستانیں ہیر رانجھا،سیف الملوک،سسی پنوں اور اسلامی داستان یوسف زلیخا کو بھی سرائیکی شعرا نے اپنا موضوع بنایا ہے اور ان داستانوں کا آغاز حمدو نعت کے ساتھ ساتھ مناقب سے کیا گیا ہے،

چلو عبدالحکیماں تاں چلائیں

صفت معراج دی ظاہر کرائیں

عجب ہک رات پُر برکات آہی

جو عالم تے خوشی دی ڈات آہی

میں کیا اوں رات دا احوال آکھاں

سراسر نور بلکہ فیض لاکھاں

قصہ یوسف زلیخا ازعبدالحکیم اوچوی

مولوی احمد یار تونسوی نے بھی قصہ یوسف زلیخا لکھا ہے جس میں وہ نعتِ سررکارؐ رقم کرتے ہوئے کہتے ہیں

گل گلزار نورانی حضرت شرف جیکوں تطہیرے

مَلکِ معظم خادم درتے جیا غوث قطب کل پیرے

مجلس خاص خدا دی نال جبرائیل وزیرے

دو کونین بہشت جو سارے سرورؐ دی جاگیرے

مولوی لطف علی کی سیف الملوک’’سیفل نامہ‘‘ اور چراغ اعوان کا قصہ ہیر رانجھا میں بھی اس حوالے سے اہمیت کی حامل تخلیقات ہیں۔ سرائیکی شاعری میں مولوی غلام قادر قریشی کا تولد نامہ بھی ایک قابل قدر تخلیق ہے،1072اشعار کا حامل یہ نعتیہ کلام قریبا ایک صدی قبل منظر عام پر آیا۔اس کے مطالعہ سے مصنف کے تحبرِ علمی کا بھی اندازہ ہوتا ہے اور فنِ شعر پر کا مل دسترس کا پتہ بھی چلتا ہے۔

شانِ محمدؐ عالی شان

افضل کل نبیاں دی جان

باعثِ خلقت نور ظہوری

اول ما خلق اللہ نوری

نور مجسم دے تھیں جان

زمیں، اسمان تے جن،انسان

نامِ محمدؐ نورِ مجسم

صل اللہ علیہ وسلم

ڈاکٹر طاہر تونسوی نے قاضی محمدعارف کے ایک سفرنامہ کے قلمی نسخہ کی موجودگی کا انکشاف بھی کیا جو بقول ان کے حبیب فائق کے کتب خانہ میں محفوظ ہے۔ڈاکٹر مہر عبدالحق نے اس سفر نامہ کو سرائیکی کا پہلا منطوم سفر نامہ قرار دیا ہے۔اس سفر نامہ میں بھی نعتیہ رنگ موجود ہے۔قاضی عارف سفر پر روانہ ہوتے ہوئے یوں سخن سرا ہیں

طرف مدینے تھیئم روانہ ہویا لطف خدایا

نئیں کجھ خوف سفر دا ہر گز نام خدا سر چایا

تھیسی فضل الہیٰ شامل ہوسی پندھ سجایا

طالب ہاں دیدار نبیؐ دا ہر دم شوق سوایا

ان اصناف کے علاوہ بارہ ماہ،ماہیے،محمدی بارہ ماسے اورچرخے نامے بھی لکھے گئے ہیں ، کافی،غزل اوردوھڑے کی اصناف میں بھی نعتیہ رنگ کی تابانی اپنی مثال نہیں رکھتی۔

نعت کی روایت کا یہ سلسلہ نورنامہ کے حضرت ملا ،میاں قبول شاہ ، اعظم چانڈیو ، حضرت شاہ حسین ؒ ،سلطان باہوؒ ، بلھے شاہؒ ،سچل سرمست ،حافظ جمال ملتانیؒ اورغلام فقیرسے آگے بڑھتا ہوا جب خواجہ غلام فریدؒ تک پہنچا تو اس میں جدت اور ندرت کے کئی دل کش رنگ نمایاں ہوچکے تھے۔خواجہ فریدؒ 19 ویں صدی کے وہ واحد اہم ترین شاعرہیں جنہیں عالمی شہرت نصیب ہوئی۔ان کے کلام کا سوز وگداز،مٹھاس،اور نغمگی اپنی مثال آپ ہے،ڈاکٹر طاہر تونسوی لکھتے ہیں’’خواجہ فریدؒ نے لحنِ داؤدی میں سچے حسن اور سچے عشق کی تلاش کا جو نغمہ تخلیق کیا اور عقیدت و محبتِ رسولﷺ کا جو مست کردینے والا سُر چھیڑا ہے اس کے باعث وہ سب کے دل کی دھڑکن بن گئے۔علامتوں اور اسرارکے حوالے سے انہوں نے تصوف کے جو مسائل بیان کئے اور جس طرح علاقہ کی علامت کو اظہارکا ذریعہ بنایا اس میں ان کا ثانی کوئی نہیں‘‘۔

خواجہ فریدؒ ایک صوفی شاعر تھے اس لیے ان کی شاعری میں وحدت الوجود کے نظریے کے اثرات بھی نظر آتے ہیں اور ایک عاشقِ کامل کی صدائے درد مند بھی سنائی دیتی ہے۔صوفیانہ شاعری کے ساتھ ساتھ ان کے کلام میں حمد اور نعت کے مضامین بھی اپنے منفرد انداز میں موجود ہیں

اِتھاں میں مٹھڑی نت جان بلب

او تاں خُش وسدا وچ ملک عرب

ہر ویلے یار دی تانگ لگی

سُنجے سینے سک دی سانگ لگی

ڈُکھی دِلڑی دے ہتھ تانگ لگی

تَھے مِل مِل سُول سمولے سب

تتی تھی جوگن چودھار پھراں

ہند سندھ پنجاب تے ماڑ پھراں

سُنج بَر تے شہر بزار پھراں

متاں یار مِلم کَیں سانگ سبب

توڑے دِھکڑے دُھوڑے کھاندڑی ہاں

تیڈے ناں توں مفت وکاندڑی ہاں

تیڈی باندیاں دی میں باندڑی ہاں

ہے دَر دِیاں کُتیاں نال ادب

واہ سوہنڑاں ڈھولنڑ یار سجن

واہ سانول ہوت حجاز وطن

آ ڈیکھ فرید دا بیتِ حزن

ہِم روز ازل دی تانگ طلب

ڈیرہ اسماعیل خان کے علاقہ ڈھکی کے رہائشی ایک صوفی شاعر غلام فقیرکو اگرچہ ملکی سطح پر ان کے کام اور کلام کی نسبت بہت کم تعارف حاصل ہے تاہم وہ بھی نعت گوئی اور صوفیانہ شاعری کے حوالے سے ایک اہم نام ہیں۔غلام فقیر خواجہ غلام فرید ؒ اور علامہ اقبال ؒ کے ہم عصر تھے اور ان سے ملاقات کا شرف بھی رکھتے تھے ۔وہ 15ستمبر1819 کو چوٹی بالا ڈیرہ غازی خان میں پیدا ہوئے بعد ازاں ان کے آباو اجدا ہجرت کرکے ڈیرہ اسماعیل خان آگئے۔ غلام فقیر نے 10مئی 1938کوجہان فانی سے کوچ کے لیے رختِ سفر باندھ لیا۔غلام فقیرنے حمدونعت کے علاوہ کافیاں،سہ حرفیاں اور ڈوھڑے بھی لکھے۔ان کی نظم عاشق اور گھڑے کا مکالمہ اپنا جواب نہیں رکھتی۔غلام فقیر کا نام تو زیادہ سفر نہ کرسکا لیکن ان کا دل کش اور پر اثر کلام دل سے دل تک سفر کرتا ہوا ایک عالم کو اپنا گرویدہ بناتا رہا۔ان کی ایک نعت کے یہ اشعارملاحظہ ہو ں

وہ خمریاں سب شوق میں،ڈالے ہوئے گل طوق میں

کہتی تھیں سب اس ذوق میں،کشف الدجےٰ بجمالہ

بلبلیں بھی سو بہ سو اور لے لے ہر اک گُل کی بُو

کرتی تھیں باہم گفتگو،حسنت جمیعُ خصالہ

چڑیوں کی سن کر چوں چئیں،بندے بھی کیوں کر چپ رہیں

لازم ہے ان کو یوں کہیں،صلو علیہ وآلہ

ملک کے سرکاری ٹی وی پر ان کا یہ خوبصورت کلام تونشر ہوتا رہتا ہے مگر ان کا نام سامنے نہیں لایا جاتا۔اس کا سبب شاید تخلص کی عدم موجودگی ہو کہ اس کلام کے مداح نے اسے ایک بڑے نشریاتی ادارے تک تو پہنچایا لیکن شاعر کا نام تلاش کرنے کی کوشش نہ کی حالانکہ آخری شعرمیں ان کا نام موجود ہے،ان کے قلمی نسخہ میں درج بالا تیسرا شعر یوں ہے

چڑیوں کی سن کر چوں چہیں،کیوں غلام فقیر بھی چپ رہیں

لازم ہے ان کو یوں کہیں،صلو علیہ وآلہ

غلام فقیر کا نعتیہ کلام ملک بھر میں پڑھا اور سنا جاتا ہے لیکن ان کی شخصیت پر ابھی تک کوئی جامع کام نہیں ہوا۔ان کے کلام دل پذیر کا ایک وقیع ذخیرہ قلمی نسخوں کی صورت ان کے پوتے حاجی رشید احمد کے پاس موجود ہے اور وہ اس کی اشاعت کے لیے کوشاں ہیں،ان کا نعتیہ کلام ملاحظہ کیجیے

واہ شان نبی سرورؐ دا اے

جیہڑا شافی روز حشر دا اے

یٰسین خدا فرمایا ہے

تیڈا نام مبارک آیا ہے

ایہو درجہ کئیں نہ پایا ہے

او صاحب شان قدر دا اے

ہک عرض کریندا اسیرا ے

درماندہ غلام فقیرا اے

تیڈے باجھوں دست نگیرا اے

میکوں آسرا تیڈے در دا اے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

م ماری چمکاری نور والی صورت یار والی جیوٰن شمس و قمر

ویکھ ویکھ رہیاں سوہنڑیں یار وانگوں نہ آیا جہاں اچ کوئی نظر

چلو سیئاں آکھو اللہ بیلی آیا عمراں ساری دا ہنڑ ہجر

غلام فقیر صورت یار والی آساں نقش کیتی ہے دل اندر

نعت کے مضامین اور موضوعات میں جہاں عہد بہ عہد جدت پیدا ہوئی وہیں اس میں تازگی اور قلبی واردات کے خوبصورت نمونے سامنے آئے،نیا اسلوب،نئے تشبیہ واستعارات، ندرتِ فکر وخیال،قلبی عقیدت کا والہانہ اظہار،جذبہ و احساس کی رفعت،جمالِ سرکارؐ کا ذکرِ نکہت آفروز، حسنِ سیرتِ رسولؐکی ضو باریاں،فریاد واستغاثہ کی پر سوز لے ،تہذیب اسلامی کی رعنائی اور حرف ومعنی کی تابندگی نے ایک نئے طرزِاحساس کو جنم دیا ۔بیسویں صدی کا نصف آخراور اکیسویں صدی کی پہلی دہائی میں تخلیقی تسلسل اور فنی ارتقا ء کے ساتھ جس طرح دیگر شعری اصناف میں نئے مضامین ،موضوعات اور جدید تر لب ولہجہ کی چمک دمک نے فروغ پایا اسی طرح نعت میں بھی نئی دنیا ئیں دریافت کرنے کا عمل بتدریج آگے بڑھا اور تخلیقی تسلسل کی جاندار روایت بھی پروان چڑھتی چلی گئی۔ اس عرصہ کے دوران نعت میں فکروخیال اور اظہار کے جوزاویے سامنے آئے اور جس طرح نعت کے کینوس میں وسعت پیدا ہوئی اسے اپنے الگ اور منفرد ذائقے کے ساتھ پہچاننا مشکل نہیں۔بیسویں صدی میں لکھی گئی دوسری زبانوں کی نعت طرح سرائیکی نعت بھی اس بات کی غماز ہے کہ وہ بھی محبتِ رسول ؐ اور عشقِ مصطفےؐکے روشن چراغوں کی حامل ہے۔نئی نعت میں جمالِ مصطفے ؐ کی ثناء بھی ہے اورسیرتِ مصطفےؐ کی ضیا بھی، سرکارِ دوعالم ؐ سے عقیدت کا اعتراف بھی ہے اور قلبی تعلق کا انکشاف بھی،قومی وملی مسائل کا بیان بھی ہے اور ذاتی الجھنوں کا اظہار بھی،عصری معاملات بھی ہیں اور کائناتی بھی،دامانِ رحمت پناہؐ کی وسعتوں کا تذکرہ بھی ہے اور عفو و در گزرطلبی بھی،الغرض جدید نعت ہر زاویے سے ارتقا کی نئی منزلیں بھی سر کررہی ہے اور بشارتیں تحریر کرنے کا کیف آورکام بھی انجام دے رہی ہے۔ مولانا نور احمد فرید آبادی،محمدیار بلبل فریدی،فقیر بخت ،محمد رمضان طالب،محمد بخش شاطر،فیض محمد دلچسپ ،مولوی مسکین،میرن شاہ،مولوی صدیق ،جانباز جتوئی ، غلام سیت پوری ،ایم بی اشرف،امید ملتانی،شائق بزدار،شباب ڈیروی ،حافظ رسول بخش حافظ،منظور احمد ناظم صابری، نور محمد سائل،حاجی بشیر احمد،دل نور پوری،آغا اقبال حسین،خان محمد کمتر،احمد حسن پر سوز،فیض عباسی،تاج محمد تاج،ماسٹر خادم حسین،خلیل احمد خلیل فریدی،دلکش اماموی،عبدالقدیر رئیس احمد پوری،فدا حسن،شہباز،عبدالرحمان آسی، شیخ امیر مجروح ،شاہ نواز فخری،گل خان خطائی،عبداللہ یزدانی ،نصیر سرمد،سرور خان سرور،عبدالرزاق بھٹی ،محمد نوازعظیم قادری،عطا الرسول اویسی ،غلام نبی اویسی،غلام حسین قمر،عزیزالرحمان گوہر،محمد رمضان بھٹی،محمد صدیق قدوسی،خادم حسین مخفی،غوث بخش منصف ،محمد منشا نادر لاشاری ،ممتاز احمد زاہد،نور الحسن لاشاری،محمد اقبال عاقل ،منظور شاہ،دیوانہ بلوچ،شوق اُچوی، خدا بخش اظہر، ثاقب دامانی ،صفدر کربلائی سمیت کئی شعراء اس جاندار اور شاندارروایت کی لڑی میں پروئے ہوئے ہیں جنہوں نے سرائیکی نعت کو جدت اور ندرت کی نئی منازل سے آشنا کیاہے۔

حقیقت محمدؐ دی پا کوئی نیں سگدا

اتھاں چپ دی جھااے اَلاکوئی نیں سگدا

مولانا نورمحمد فرید آبادی

نبیؐ سئیں تیڈے مکھ ڈکھاونڑ توں صدقے

خدا سئیں محمدؐ بناونڑ توں صدقے

تیڈے میم دے برقعے پاونڑ تون صدقے

اھد ہو کے احمد سڈاونڑ توں صدقے

خواجہ محمد یار بلبل فریدی

محبوبِ رب کونین دی شاہی پیا ٹھمکینداے ایویں

جیویں خدا ایکوں رنگیا ھے جگ کو رنگینداے ایویں

صابر مبارک پوری

تیڈے دین دے نور نے کیتاروشن ہک ہک گھر کوں

ڈاھاندیاں گئیاں آپو آپے رستے دیاں دیواراں

ایہو شوق رشید ہے میڈے جیون دا سرمایا

سوہنڑے روضے دیاں چھاواں وچ ساری عمر گذاراں

رشید عثمانی

عالم دی تخلیق دا باعث ہر مخلوق توں اعلیٰ

بعد خدا دی ذات دے سب توں اچیاں شاناں والا

جیندے ناں دیاں بانگاں سنڑ کے شام دے ڈیوے بلدن

جیندے ناں توں فزریں ویلے ڈیہنہ کوں سوجھلے ملدن

حسن رضا گردیزی

جڈاں دور عدم وچ ذات احد کیتا حمد اپنڑا منظور اے

نال الفت احد دے حمد ملا کیتا احمدؐ نام ظہور اے

تہوں ہر توں پہلے پیدا کیتس پاک احمدؐ دا نور اے

وت مدت اوں ناں کوں رکھیس اپنڑے محض حضور اے

رہے عصر کمال بحال وصال جو نور تے ذات غیوراے

ایں واسطے نور احمدؐ دا ہویا نورِ خدا مشہوراے

غلام حسن شاہ تائب

یزداں بھجے فرمان کیتا روح الامیں تے

جبریل نہ لا دیر توں ونج جلد زمیں تے

پیغام پچا جلد میڈے ماہِ جبیںؐ تے

محبوبؐ میڈا آوے جو اج عرش بریں تے

محبوب دی اج عرش تے مہمانی کریساں

اج وحی نیں گال میں زبانی کریساں

تسکین ملتانی

نعت لکھاں میں پاک محمدؐ ھے محبوبؐ سبحانی

قسماں چایاں خود رب اکبر ایجھاں حسن لاثانی

رب اکبر ھے رحمت بھیجی جوڑ شکل انسانی

مجروح لولاک لما سر جھلدا واہ شوکت سلطانی

شیخ محمد امیر مجروح

کریندے ودے ہیں ثنا مصطفےؐ دی

پسند آگئی ھے ادا مصطفے دیؐ

دعا ھے حشر وچ خدا آکھ ڈیوے

کوئی نعت سبقت سنڑا مصطفے دیؐ

سبقت

جنہاں نال عرشیاں دی ونج سک لہا یو

میڈے گھروی او خوش قدم بختاں والا

تیڈے حسن احسن دی تمہید لکھدیں

ھے حیران لوح و قلم بختاں والا

نور محمد سائل

سوہنڑے نبیؐ دی شان خدا داکمال ھے

کیءں کوں ھے دعویٰ نال دا کیندی مجال ھے

عظمت تیڈی ھے ڈوہاں جہاناں دے واسطے

اِتھاں کوئی مثال نہ اُتھاں مثال ھے

سلیم احسن

زمین تے سوجھلا احسان اے حضورؐ دا ھے

تمام دہر تے سایہ اُنہاں دے نور دا ھے

منیر فاطمی

بنڑے چوڈاں طبق سب والی ء کونین دے صدقے

تھئی تخلیقِ آدمؑ نانااے حسنینؑ دے صدقے

خدا وند پاک میکوں وی سلیقہ نعت گوئی دا

عطا کیتا رسولِ پاکؐ دی نعلین دے صدقے

نذیر ڈھلا خیلوی

جیکوں ڈو جگ دی سرداری ملی ،اوں سردار ؐ دا عالم کیا ہوسی

جبریل جتھاں دربان ہووے ،اوں دربار دا عالم کیا ہوسی

توڑیں سرور اوگن ہار اہیں وساواس نہ کر کجھ محشر دا

جیندا ضامن کملی والاؐ ہے اوں گرفتار دا عالم کیاہوسی

سرور خان سرور

خطائی تیڈے نعتاں لکھے جھوم جھوم کے

اللہ ایندا کھولا ھے ادراک مدنیؐ

تیڈی جتی پاک دی ھے شان وکھری

ٹپ گئی ھے اے ست افلاک مدنیؐ

گل خان خطائی

رب سئیں ھے چیندا زلفیں دیاں قسماں

محبت دیاں ہوندن ایہو جیاں رسماں

تئیں وانگ رب کوں منا کوئی نیں سکدا

جتھاں پہنچا عربیؐ جا کوئی نیں سکدا

جام ایم ڈی گانگا

پار ڈسیندا ے شہر مدینہ ،میں روواں اروار

نہ ہے ونجس نہ بیڑی کوئی ،دریا ڈسدن تار

میں مسکین نماناں عاجز،رکھی ہم امید

ساوے روضے اُتے پہنچاں ،دم نکلم اوں وار

امید ملتانی

رب دے حبیب ؐ کیتیاں رب دو تیاریاں

فردوس وچوں آئیاں سئیں دو سواریاں

افلاک تے قدم شہء لولاکؐ جاں رکھا

سجھ،چن وجود گھول تے نذراں گذاریاں

نو محمد کہتر

ذکر تیڈے یا دا مولا کریند رہ ونجاں

توں وی راضی میں وی اپنڑا ہاں ٹھریندا رہ ونجاں

لوک پڑھدن حج نمازاں میڈے ذمے لا ایہو

میں تیڈے محبوبؐ دے سہرے لکھیندا رہ ونجاں

شاکر شجاع آبادی

سئیں میم کریمؐ دے ڈیکھنڑ کیتے ہر ویلے ماہی سکداں

اوندی یاد ہمیشہ دل وچ راہندی بیٹھا نغمے فراق دے لکھداں

اوندے جوڑ کے سہرے جگ وچ گانداں ونج جہیڑی جھوک تے ٹکداں

قسم خدا دی کر فیض آکھے میں تاں محض غلام سئیں لکھداں

فیض سندھڑ

تیڈی زلف دے پچھاویں والیل پینگھ جھوٹے

ول فجر دی تجلی ادبوں انکھیں چا نوٹے

جبریل در دا بانا تیڈے لاڈلے کھڈالے

سئیں سوہنڑے کملی والے 

عزیز شاہد 

رٹھڑا یار مناواں جاواں شہر مدینے

روز نہ پئی کرلاواں جاواں شہر مدینے

چھوڑ میں اپنڑے گھر نوں جاواں

یار دے در تے ڈیرے لاواں

جاواں پھر نہ آواں،جاواں شہر مدینے

خلیل احمد خلیل

حبیبا ؐاچی شاناں والیا جے توں آیوں تے بہاراں آیاں

اللہ کوں توں پیا را لگدا ایں تہوں رب نے وی خوشیاں منایاں

ناصر پڑھ پڑھ تیڈیاں نعتاں بھل گیا سارے جگ دیاں باتاں

پیار تیڈا ھے پلے سوہنڑیا ،کی کرنیاں ہور کمایاں

ناصر شاہ

بیسویں صدی میں نعتیہ مجموعوں کے ساتھ ساتھ دیگر شعری تصانیف میں بھی نعت کا رنگ شامل رہا ہے اور عہد بہ عہد مختلف نئی اصناف بھی سرائیکی شاعری کا حصہ بنتی رہی ہیں۔اس صدی کے پہلے نصف دور میں صرف فقیر بخت کے’’ختم الرسلؐ دی شان‘‘کے نام سے چودہ مولود شائع ہوئے،مدنی سئیں سلطان(امید ملتانی)،گلشنِ سرکارؐ(اسلم میتلا)، پھنوار،سوچاں سکھ دیاں(رمضان طالب)،رحمت دی ڈات(فقیر بخت)،خوشبو(شائق بزدار)،کونین دا والی،نعت میڈی کائنات(شباب ڈیروی)سہرے حضورؐدے،محبوب رسالت،عرب دا چن،فیضِ مصطفے،محسنِ کائنات،محمدی چمن،مدینے دے موتی،نوری گلشن(فیض سندھڑ)،ثنائے مصطفے ،سرکار دی رحمت،گلشن احسان،گلشن عقیدت،گلشن صابری،گلشن نعت(منظور احمد ناظم)،سرائیکی نعتاں،عظمت رسولؐ،محبت رسولؐ،نوری بارش،نوری سہرے(انتخاب حاجی بشیراحمد۔مغفورسعیدی)،مدینے ہواں ہا،نوری نعتاں(مرتب۔ دل نور پوری)،نعت مصطفےؐ(آغا اقبال حسین)،دیوان کمتر(خان محمد کمتر)،خالق دا مانڑ محمد( احمد حسن پرسوز بخاری)،محمدی ڈوھڑے( فیض عباسی،گلشن رسولؐ(تاج محمد تاج)،مدنی دے سہرے( ماسٹر خادم حسین)،سوہنڑے دے سہرے(خلیل احمد خلیل فریدی)،محمدی گلشن(محمد منشا نادر لاشاری)،ڈھولا پاک محمد(غوث بخش منصف)،عقیدت دے پھل( ممتاز احمد زاہد)عقیدت دیاں ہنجوں( نور الحسن لشاری)اور حافظ رسول بخش حافظ کے انیس کتابچوں سمیت متعدد نعتیہ کتب بیسویں صدی میں منظر عام پر آئیں۔اس صدی کے آخری نصف میں ایم بی اشرف کی ایک طویل نعتیہ نظم ’’کونین دا سنڑپ‘‘منظر عام پر آئی جو اہمیت کی حامل کتاب ہے،اس مجموعہ میں عقیدت و محبت اور شاعرانہ کمالات قابل داد ہیں،چند اشعار ملاحظہ ہوں

آیاں استقبال دے کیتے حوراں لکھ ہزاراں

کل انبیاؑ تے ملک فلک توں لتھے بنھ قطاراں

خوش تھی مدنیؐ دے جمنڑے تے حوراں گاونڑ واراں

ڈیونڑ کانڑ مبارک بادی آیاں مار اُڈاراں

جھومیا عرش معلی سنڑ تے خوشیاں دیاں چمکاراں

کل کینات کوں ازلاں توں ہن جیندیاں واٹ نہاراں

او آیا تاں اجڑی دھرتی تھی گئی گل گلزاراں

پاک محمدؐ دے جمنڑے عرشاں تے دھوم مچائی

جنت دے ہر ون دے پتے پتے رم جھم لائی

طوبیٰ حجب تے سدرا اپنڑی وکھری ٹور بنڑائی

کل حوراں دی پیشانی وچ چمک ایں نور ڈکھائی

جنت دے ہر محل تے غرفے وچ تھی گئی روشنائی

ہک بئے کوں پئے ڈیون عرشی بھج بھج خیر ودھائی

اسی طرح عبداللہ یزدانی کی ایک نعت بھی بہت مقبول ہوئی اور اپنی تخلیق کے بعد سے اب تک غالبا بیس سالوں سے ہر محفل نعت میں پڑھی جاتی رہی ہے۔

جڈاں یاد تیڈی دا چن چڑھداے پلکاں تے ستارے بل ویندن

تیڈے ناں دا ورد کرینداں تاں میڈے سارے ڈکھڑے ٹل ویندن

کتھ عرشِ بریں کتھ فرشِ زمیں کتھ قابَ قوسین او ادنیٰ

میڈا پاک نبیؐ اُتھ پہنچا ھے جتھاں پر جبریل دے جل ویندن

سب جھولیاں بھر بھر ٹُر ویندن اتھاں پتھر وی بنڑ دُر ویندن

جہیڑے آندن ایں دروازے تے کون آدھے خالی ول ویندن

ہنڑ بھیج مدینے توں مولاؐ کوئی بدلی آپنڑے ساونڑ دی

میکوں بہہ بہہ تتیاں دھپاں تے ایویں روز پچھاویں ڈھل ویندن

میڈے لکھ سلام درود ہون اوں پاک نبیؐ تے یزدانی

جیندو گِھن سوغات دروداں دی جِن،اِنس،مَلک،مرسل ویندن

اکیسویں صدی میں بھی جدید تر نعت کا سفر تسلسل کے ساتھ جاری ہے اورسرائیکی نعت کے حوالے سے بہت زرخیز ثابت ہورہی ہے ،اس کی پہلی دہائی میں ہی درجنوں نعتیہ کتب مارکیٹ میں آچکی ہیں اور یہ سلسلہ دوسری دہائی میں بھی جاری ہے ۔اس عرصہ میں شائع ہونے والی کتب میں ڈیرہ اسماعیل خان کے ڈاکٹر سلطان احمد مستجیرکی کتاب’’مسافر غارِ ثور دا‘‘ کو اس حوالے اہمیت حاصل ہے کہ اس میں سیرتِ رسولﷺ کونظمیہ صورت میں قلم بند کیا گیا ہے ،میری معلومات کے مطابق یہ پہلی سرائیکی منظوم سیرتِ رسولؐ ہے ،قریبا800 صفحات پر مشتمل اس کتاب کو 2006 کا قومی سیرت ایوارڈ دیا بھی گیا ۔ چند اشعار ملاحظہ ہوں 

ہنڑ وصف چھیویں دا وارا ھے

ہر بغض توں پاک او پیارا ھے

سوہنڑا روشن ڈینھ وانگوں سارا ھے

نبیؐ بنڑ ساڈا غم خار آیا

نہ فرق اتھاں نسل قبیلے دا

گورا کالا یار قبیلے دا

پیارا بول ہر نال جوشیلے دا

ہر قوم دا بنڑ سردار آیا

جھا ہر دی اتھاں ہکا ہئی

نہ اُچا کوئی نہ جِھکا ہئی

جئیں حق دا کلمہ سِکھا ہئی

او بنڑ ساراں دا یار آیا

بھانویں عربی یا کوئی عجمی ہئی

ہئی حبشی یا ہئی رومی بھئی

کالے گورے نال ہس دلڑی لئی

سوہنڑا ساراں دا دلدار آیا

امیر وی نال سوہنڑے دے ہَن

غریب وی پرے راہندے نَن

نہ فرق ڈاہاں وچ کیندے ہَن

سارے آکھن ساڈا پیار آیا

گذشتہ بار ہ سالوں میں سامنے آنے والے نعتیہ کلام سے کچھ منتخب اشعار بھی ملاحظہ کیجیے تاکہ نئی نعت کے مجموعی مزاج سے آگاہی ہو سکے۔

محمدؐ دے در دے بھکاری اساں

ایندے ناں تو جند جان واری اساں

ایندے در توں پندوں ایندے در توں گھندوں

ایویں عمراں ساری گذاری اساں

فیاض حسین قاصر فریدی

جے سجھ ولاوے تاں اوندی مرضی جے چن لہاوے تاں اوندی مرضی

پڑھا کے کلمہ جے سنگریزاں کوں او سنڑاوے تاں اوندی مرضی

اوہیندی مرضی تے جانی دشمن اکٹھے چادرکوں نپ کھڑودن

کُللے جھگڑے دی بلدی بھا وچ جے ست مکاوے تاں اوندی مرضی

خاور نقوی

لجپال کریم محمدؐ سئیں ایہو کرم چا کر پچھے موت آوے

میڈیاں انکھیاں رج رج ڈیکھ گھنن تیڈا اعلیٰ در پچھے موت آوے

تیڈے فیض توں دل سیراب تھیوے رہے کئی نہ ڈر پچھے موت آے

دل نور نزاع دے وقت ڈیکھے تیڈا رخ انور پچھے موت آوے

دل نور پوری

کونین دے وچ ڈسدن انوار مدینے دے

فردوس توں اعلیی ہن گلزار مدینے دے

طیبہ دے پہاڑیں دا کیا شان ڈساواں میں

پُھل خلدِ بریں وانگوں ہن خار مدینے دے

ظفرحسین ظفر فریدی

عالم اوں ؐ توں ودھ نہ کوئی 

عامل اوں توں ودھ نہ کوئی

جیکوں العلیم دی طرفوں

ہر ہک علم سکھایا گیا

ہر نکتہ سمجھایا گیا

کون پڑھیندا کون سکھیندا

اے جئیں علم تے ای جئیں نکتے

تہوں تاں دنیا دا کوئی مکتب

م مٹھلؐ دے قابل کونیں

حمید الفت ملغانی

سجا آیاہاں اپنڑے شعر گلدانِ عقیدت وچ

امیداں راہبر تھیون جو دربارِ رسالت وچ

میں پلکاں نال چماں خاکِ اقدس تیڈی گلیاں دی

میڈا ناں وی جیکر شامل کرو آقاؐ سعادت وچ

حفیظ گیلانی

میں سمجھی بیٹھاں ایں دنیا وچ ملسو

دھوکا ڈتا ہوم ساہواں،متاں

کتھاں عرش دا واسی کتھاں میڈا گھر

اگلی دنیا چوں تھی آواں ،متاں

اقبال حسین

اے بدرالدجاؐ ، شاہِ اممؐ ، والیء ثقلینؐ

اے کوثر وتسنیم تیڈے نیر دا مُل نیں

مدنی! تیڈے صفدر کوں بس اتنا پتہ اے

کائنات تیڈے چولے دی ہک لیردا مُل نیں

صفدر کربلائی

رب دا ڈھول جو آیا ھے کائنات وس پئی اے

نوری قدم ٹکایا ھے کائنات وس پئی اے

جڈاں تئیں نور ہا پردے وچ کائنات اجڑی ہئی

چہرہ والشمس ڈکھایا ھے کائنات وس پئی اے

توقیر مہروی

جہان سارا تھیا منور جو اج سراجِ منیرؐ آگئے

فلک تے حور و مَلک پئے گاون حبیبِ ربِ قدیرؐ آگئے

زمین منور زماں منور مکاں مکاں لامکاں منور

فلک توں انوارِ حق پئے وسدن حضورؐ روشن ضمیر آگئے

امان اللہ کاظم

میکوں آنپڑے در تے سڈا میڈا مولاؐ

ایہا آس دل دی پجا میڈا مولاؐ

ابرار عقیل

ڈکھڑے ساڈے ٹال محمدؐ

وسدی راہوے تیڈی آل محمدؐ

کاظم شاہ نازک

میں ہاں سوالی تہاڈے در دا تساں نبیاں دے بادشاہ ہو

خیال رکھدے ہو ہر بشردا تساں نبیاں دے بادشاہ ہو

ہے ذات سا ئیاں دی لگدی پیاری،درود پڑھداں میں رات ساری

تے اکھ تے ہنج دا ہے تارا تردا تساں نبیاں دے بادشاہ ہو

مخمور قلندری

اے ڈکھ جڈاں وی میکوں ستیند ن تاں وجد دے وچ درود پڑھداں

تے نعت سئیں دی کوں گنگنانداں جڈاں زمانہ ملال ڈینداے

ایہا تڑپ ہے جو میں سنڑاواں ہا حال درداں دا درتے ونج کے

او خالی در آئے کوں نیءں مڑیندا تے درد عمراں دے ٹال ڈینداے

ثاقب دامانی

ہاں خادم کملیؐ والے دا کئیں خان نواب دا نوکر ناں

میں سیرت دا پروانہ ہاں کئیں عام شباب دا نوکر ناں

کوئی غلط تعبیر منیندا ناں کئیں کوڑے خاب دا نوکر ناں

میں نوکر مفطر سچیاں دا کئیں نیت خراب دا نوکر ناں

عابد علی مفطر

کملی والےؐ دا ھے اے کرم نعتاں لکھ لکھ سنڑیندا وداں

ناں محمدؐ دی تسبیح پکا چُم انکھیاں تے لیندا وداں

یوسف مضروب

چند دیگر اہم کتابوں میں سک عربی دی(جام ایم ڈی گانگا)،نورگر(سفیر لاشاری)،نور دا سوجھلا(محمد صدیق نازک)،سوہنڑا ساوا روضہ(بشیر احمددیوانہ)،سک مدینے دی(ناظم بخاری)،سوجھل سہرے(محمد رمضان طالب)،کلامِ کہتر(نورمحمد کہتر)،م مقدس،جلوے حضورؐ دے،تانگاں ڈھول دیاں،میلادِ مصطفےؐ( فیض محمد سندھڑ)،تھیواں نبی دے صدقے،سئیں دے سہرے(حافظ نذیر احمد)،کمالِ قدرت( شاکر شجاع آبادی،دل نور پوری)،نور دے نظارے،نوری نعتاں،ڈوجگ دا سلطان(دل نور پوری)،کونین دا گوٹھ(محمد نواز نیازی)،ثنا تھی ونجے( مصطفے عزیز)،سہرے پاک نبی دے( حافظ بشیر مغفور)،سلسلے سلونی دے(عزیزشاہد)،مدنی دے سہرے( گل شاد قادری)،تن روشنی من روشنی( سرور قریشی)،حضورؐ دا شان،رب خش تھینداے( ظفر مسکین)،م دے اُولے(حمید الفت ملغانی)،مٹھے مدنیؐ دیاں نعتاں،پاک نبیؐ دیاں نعتاں(حافظ رسول بخش)، کلام کہتر(نورمحمد کہتر)،ماکھی توں مٹھا مدینہ،صفتاں لجپال دیاں( عارف شاہ عارف)،رحمت دی چھاں(جمشید کلا نچوی) اورمیڈے آقاؐ کملی والے(پروین اختر پروین)اورنت جان بلب،نت تانگ طلب(فیاض حسین قاصر فریدی) شامل ہیں۔سرائیکی شعراء جس طرح سرکار دوعالمﷺ سے اپنی محبت کے والہانہ اظہار اورحضورؐکے ذکرِ جمیل سے سرائیکی نعت کوثروت مند کرتے چلے جاتے ہیں، مجھے یقین ہے کہ عقیدتوں اور سعادتوں کا یہ مبارک سفر ابدالآباد تک اسی آب و تاب کے ساتھ جاری رہے گا۔

کتابیات

1۔سرائیکی ادب۔ریت تے روایت۔ڈاکٹر طاہر تونسوی

2۔سرائیکی ادب دا ارتقا۔ڈاکٹر نصراللہ خان ناصر

3۔سرائیکی زبان و ادب کی مختصر تاریخ۔سجاد حیدر پرویز

4۔نور نامہ حضرت ملاں۔مرتب۔دلشاد کلانچوی

5۔ابیات باہوؒ ۔مرتب سلطان الطاف علی

6۔منتخب کلام سچل سرمستؒ ۔مرتب اسلم رسول پوری

7۔معراج نامہ حافظ محمد یار۔مرتب۔دلشاد کلانچوی

8۔مولود نبی مختارؐ۔نوبہار سیری

9۔دیوان خواجہ غلام فریدؒ ۔مترجم وشارح۔مولانا نور احمد فریدی

10۔مجموعہ کلام مولوی نورالدین مسکین

11۔پنجاب میں اردو۔حافظ محمود شیرانی

12۔سرائیکی زبان کی مزید لسانی تحقیقاں

13۔فن نعت کی نئی جہات۔محمد حیات چغتائی

14۔آتشِ عشق ۔کلام امیر حیدر میرن،مرتب حاجی شمس الدین

15۔خادم دے ڈھولے۔ناشر مولوی فیض بخش

16۔دیوان غلام فقیر۔قلمی نسخہ ملکیت حاجی رشید احمد

17۔وحدت افکار۔علاقائی شاعری کا انتخاب۔ وفاقی وزارت اطلاعات






مصنف کے بارے میں


...

خورشیدربانی

11.08.1973 - | shor kot,dera ismail khan





Comments