ماں جی آپ کی محبتوں کا کوئی بدل نہیں



...


ماں کے لمس سے شناسائی کا لمحہ حقیقی تو یاد نہیں۔ لیکن مجھے یاد ہے زیرو واٹ بلب کی نیلگوں روشنی میں جب میری آنکھ کھلتی تو میں ماں کی دو ٹانگوں کے درمیاں ہوتی تھی۔ نیند میں میرے گرنے کی کوشش ماں کے لاشعور میں بھی چھپی نہ رہ سکتی تھی اور وہ نیند میں ہی مجھے گرنے سے روکنے کا ممتا بھرا سدِباب کرتیں۔ قاری صاحب کا حد درجہ خوف جب مجھ پہ غالب آتا تو میں ماں کی گود میں چھپ کر پوچھتی کہ قاری صاحب تو نہ آئیں گے۔ (یہ خوف دنیا کا سب سے بڑا خوف ہوا کرتا تھا )

ماں مجھے گود میں چھپا کر اوپر سے دوپٹے کا پلو دے دیتیں اور میں قاری کے خوف سے آزاد ماں کی گود میں خود کو ہر خطرے سے محفوظ سمجھتی دو منٹ بعد ہی نیند کی گہری وادیوں میں اتر جاتی۔ مجھے یاد ہے میں نے ماں کو کبھی بھی کچھ بولتے نہیں دیکھا تھا۔ ایک نامعلوم سی خاموشی اور عاجزی ان کی ذات کے گرد حالہ بنائے ہوئے تھی۔ میری صبح کا آغاز ان کی تلاوت کی آواز سن کر ہوا کرتا تھا۔

پھر اس کے بعد جب آنکھ کھلتی تو ماں خاموشی سے بنا شور کیے شوہر کے کپڑے استری کرتے دکھائی دیتیں۔ باہر نکل کر معلوم ہوتا کہ ابھی آسمان پر ان گنت تارے باقی ہیں۔ یہ ماں کے دن کا آغاز ہوتا۔ اس کے بعد تمام دن اپنے اوپر تلے کے چار بچوں کی ناز برداریاں کرتی پائی جاتیں۔ مجھے یاد ہے وہ ہمیشہ کسی نہ کسی کام میں مگن رہتی تھیں یوں لگتا تھا کوئی مشین ہے جو تاثرات سے عاری اپنے فرائض نبھاتی چلی جاتی ہے۔ جس دن میرا پانچویں نمبر والا بھائی ہوا مجھے آج بھی یاد ہے ماں نے حسبِ معمول گھر کے سارے کام نمٹائے ساس کی کڑوی کسیلی باتیں ایک پُر سکون چہرے کے ساتھ اپنے اندر اتاریں اور آٹھ بجے خود ہی ہسپتال روانہ ہوئیں۔ یہ ماں کا پہلا عکس ہے۔

2012

وقت گزرتا ہے۔ حالات بدلتے ہیں لیکن ماں ویسی کی ویسی ہے پُرسکون عاجز ہر بات برداشت کرنے والی۔ اولاد کی ہر بات کو خاموشی سے برداشت کرتی ہے۔ کسی بات پہ دل زیادہ دُکھا تو کسی کونے میں جا کر خدا سے اپنے بچوں کی سلامتی مانگ لی۔ اس کے سامنے دو چار آنسو بہائے اور پھر سے اپنے کاموں میں مگن۔ میں نے ماں کو سوائے ایک دو بار کے کبھی روتے نہیں دیکھا۔ جب ابا کا انتقال ہوا تب ماں ان کی پائنتی بیٹھی چلاتی روتی آنکھوں کے سامنے آتی ہے۔

اس دن شاید ماں نے زندگی بھر کے جمع شدہ آنسو بہانے کا ارادہ کرلیا تھا۔ ماں شدت غم سے بے ہوش تھی۔ لیکن کانوں میں کسی کی آواز پڑی کہ چھوٹا بیٹا بے ہوش ہے تو اپنا غم بھول کر بچوں کے لیے پھر سے وہی پرانی ماں بن گئی۔ زمانے کے سرد و گرم کے آگے بچوں کے لیے ڈھال۔

یہ 2019 ہے ابا کو گزرے ساتواں سال ماں ویسی ہی مضبوط تکالیف سے عاری چہرہ بچوں کے لیے حوصلے کا مینار ہے۔ چالیس سال کی جوان عمر میں شوہر کا ساتھ چھوڑ جانا چھ بچوں کا بار، معاشی حالات کی آنکھ مچولیاں، اولاد کے طعن و تشنیع بھی ماں کی صبح کا آغاز نہیں بدل پائے۔ آج بھی میری آنکھ ماں کی تلاوت سے کھلتی ہے۔ فرق یہ ہے کہ شوہر کی اطاعت گزاری کی جگہ اب اولاد کی اطاعت گزاری نے لے لی ہے۔ ۔ ماں جی آپ کی محبتوں کا کوئی بدل نہیں۔ مولا سب کی ماؤں کی خیر ہو۔

یومِ مادر پر کچھ ممتا بھری یادیں۔






مصنف کے بارے میں


...

فرواہ شیخ

- | ٖفیصل آباد


ایم فل اردو کر رہی ہوں۔خواتین کی سماجی حثییت پہ فکرمند ہوں۔اور ان کے لیے کچھ کرنا چاہتی ہوں۔




Comments