سورج کے لئیے ایک سٹیٹس اپڈیٹ



...


سورج کے لئیے ایک سٹیٹس اپڈیٹ

ہم ایک مردہ معاشرے میں سانس لے رہے ہیں اور اس بات کا فیصلہ کون کر گا کہ ہمارا معاشرہ زندہ لوگوں کا معاشرہ ہے یا نہیں ؟ وہ یقیناًاس معاشرے کے وہی لوگ کر سکتے ہیں جو اپنے مردہ ہونے کا اقرار کرنے کا حوصلہ رکھتے ہوں ۔ ایسے لوگ صرف وہی ہوتے ہیں جو آزاد سوچ کے حامل ہوں ۔ آزاد سوچ رکھنے والے اکثر کسی نہ کسی آرٹ سے وابستہ ہوتے ہیں ۔ ہمارے ہاں اکثر لوگ آرٹ لفظ کا مفہوم تک نہیں جانتے ۔ جو جانتے ہیں ان کے نزدیک ادب میوزک وغیرہ ہی آرٹ سمجھا جاتا ہے۔ خیر ایسا ہونا کوئی غیر فطری عمل نہیں ہے کیونکہ آرٹ اور ادب صرف آزاد اذہان کا ہی کام ہے ہمارے ہاں صرف مغلوب اذہان پائے جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے ہاں آرٹسٹ سے زیادہ جعلی پیر او ر شعبدے باز مشہور ہیں۔ ہم داستانوں کی زمین کے باسی ہیں۔ ہمارے ہاں شاعر اور ادیب بھی سنتے ہیں کہ کسی دور میں کافی نام کمایا کرتے تھے مگر اب تو ادیب کہلوانا اتنا ہی مضحیکہ خیز ہے جتنا شہباز شریف کا پانچ سال بعد یہ بیان کہ وہ زرداری کی دولت سوئس بینکوں سے واپس لائیں گے حالانکہ اب تک وہ دولت شاید الیکسن برگ کے بینکوں میں منتقل ہو چکی ہو گی جوآج کل یورپ میں بلیک منی چھپانے کا سب سے محفوظ طریقہ خیال کیا جاتا ہے۔ خیر ہم بھی کیا بات لے کر بیٹھ گئے ۔ بات کرتے ہیں افسانہ نگاروں کی ۔ کچھ کہانیوں کی اور کچھ حقائق کی ۔ 

سو کہانی وہاں سے شروع ہوتی ہے جب میرا لاہور میں نیا نیا آنا ہوا تھا او ر اسی وقت مجھے کسی نے بتایا کہ تمھیں ادب سے لگاوٗ ہے تو حلقہ ارباب ذوق کا رخ کرو کافی ادیب آتے ہیں ۔ میں ٹی ہاوٗس پہنچ گیا ان دنوں سیکریٹری غافر شہزاد تھے اجلاس سے پہلے کافی محبت سے ملے ۔ پہلے دن کی کوئی خاص یاد ہے نہیں ادب کے متعلق ۔ بس اتنا یاد ہے کہ سلیم سہیل اور فرحت عباس شاہ میں کافی گرما گرم بحث یا سچ کہوں تو’ تلخ کلامی ‘ہوئی تھی۔میں واپس آیا تو فیصلہ کر لیا کہ ایسی جگہ دوبارہ نہیں جانا ۔ خیر وہاں سے اٹھ کر ایک دوست جنہوں نے مجھ سے برابری کا رشتہ رکھا تھا اور آج کل مجھ سے نالاں ہیں یعنی کامریڈ زوار کی طرف آئے تو پتا چلا کہ ایک اور حلقہ ایوان اقبال میں بھی ہے یعنی حلقہ ارباب ذوق دو لخت تھا۔ میں نے سوچا ایون اقبال بھی جانا چاہئیے سو ایوان اقبال پہنچا وہاں کا ماحول کافی بہتر تھا کیونکہ ایک تو وہاں بیٹھنے کی جگہ کافی زیادہ تھی دوسرا حلقے کے اجلاس کے آخر میں عامر فراز سے ملاقات ہو گئی ۔ میں آج بھی سمجھتا ہوں کہ میری ادبی سرگرمیوں کا وہ سب اہم دن تھا اس دن عامر فراز سے ملاقات نہ ہوتی تو میں شاید میں آج اتنا کچھ نہ سیکھ پاتا جوسیکھا ہے۔ عامر فراز تب سیکرٹری نہیں تھے مگر پھر بھی حلقے کے اجلاس کے بعد سب نوجوانوں سے خصوصا ہم جو لوگ پہلی دفعہ آئے تھے بہت اچھے سے ملے اور کافی دیر حلقے اور ادب کے متعلق گفتگو نیشنل ہوٹل میں ہوتی رہی اور پھر اس کے بعد یہ معمول چل نکلا۔ عامر فراز کی شخصییت کچھ پر اسرار کچھ دوستانہ تھی ۔عامر فراز سے دوستی کی بڑی وجہ یہ تھی کہ ان کی شخصیت کبھی استادانہ نہیں رہی ۔ وہ ہمیشہ ایک دوست کی طرح کسی بھی موضوع پر بات کرتے اور بہت ہی سکون سے مجھ ایسے جاہلوں کی رائے سنتے ۔ آہستہ آہستہ عامر فراز سے بطور ایک ادیب تعارف ہونا شروع ہوا۔ عامر کے افسانے سنے کیا ہی خوبصورت تخلیقکار ہیں وہ ۔ چونکہ میں خود افسانے کا طالبعلم ہوں تو میں یہ بات پوری ایمانداری سے کہنا چاہتا ہوں کہ میں نے متن کے متعلق سارتر ،زبان کے اعتبار سے مرزا فرحت اللہ بیگ ، ٹیکنیک کے متعلق مرزا اطہر بیگ اور بیانہ بلاشبہ عامر فراز سے سیکھا۔ ان کے افسانے جو ملک کے سبھی معیاری رسالوں میں چھپتے آرہیں ہمیں یہ بتاتے ہیں کہ عامر فراز کو اپنے تخلیقار ہونے کا پورا احساس ہے وہ افسانہ بیان کرتے ہوئے کبھی کبھی بہت انوکھی ٹیکنک استعمال کرتے ہیں مثلا کبھی تو بیانیے کو یوں دکھائیں گے کہ ایک فلم کی شوٹنگ ہورہی ہے اور کیمرہ اب کمرے کہ میں موجود بیڈ پرہی فوکسڈ ہے اور کمرے کی تمام باقی چیزیں نظر انداز کر دی گئی ہیں ۔ کبھی وہ یوں لکھیں گے ’اب سے پہلے جج کی سرگوشی کو سرگوشی نمبر ایک اور دوسرے جج کی سرگوشی کو سرگوشی نمبر دو کہا جائے گا تاکہ وقت بچ سکے‘ ۔ عامر فراز کا ایسا کرنا ایک تو ان کے بیانئے پر ان کی گرفت کی مضبوطی کی دلیل ہے اور دوسرا اہم پہلو جو مجھ جیسے سیکھنے والوں کے لئیے ہے وہ یہ کہ افسانے میں بار بار لفظوں کی تکرار اچھی نہیں لگتی۔عامر فراز سے افسانے کے متعلق بہت کچھ سیکھنے کو ملا مثلا افسانے میں ایک لفظ بھی اضافی نہ ہو، افسانہ لکھ لینا ایک بات ہے اور اس کے بعد کم ازکم اسے دس بار دوبارہ دیکھنا اسے سے زیادہ اہم ہے، بیانیہ فکشن کی زبان میں ہو اور ہر جملے میں تخلیق چھلکتی ہو۔ عامر فراز کے اپنے افسانے میں نہایت کاٹ دار جملے ہوتے ہیں ۔ میرا پہلا تجربہ تھا کہ کسی نثر نگار کو جملوں پر شعر کی سی داد مل رہی ہو۔ اس پر عامر کے پڑھنے کا انداز نہایت کمال ہے اکثر لوگ تو کہتے ہیں کہ عامر فراز ایک بری تحریر کو بھی پڑھ دے تو وہ نہایت اچھی ہو جاتی ہے ۔ مگر عامر فراز کا اپنا کہنا ہے اور بجا ہے کہ کوئی شخص بھی بری تحریر کو جتنا بھی اچھا پڑھ لے اسے اچھا نہیں کر سکتا۔عامر فراز ہمیشہ اس بات پر زور دیتے ہیں کہ تحریر کو اچھے انداز میں پڑھا جائے تا کہ اس کا متن اچھے سے واضح ہو جائے۔ چونکہ میرا افسانہ سنانے کاانداز کسی کام کا نہیں اور اکثر عامر بھائی سے باقاعدہ سیکھنے کی فرامائش کرتا ہوں ۔عامر فراز کے افسانے کے موضوع نہایت جدید اور دلچسپ ہیں ۔ کہانی کہنے کا فن جو عامر کے پاس ہے قدرت ایسا فن بہت کم لوگوں کو ہی دیا کرتی ہے۔ عامر فراز کے موضوعات پر پھر کبھی یقیناًتفصیلا بات ہو گی ۔ عامر فراز کی عالمی ادب پر گہری نظر ہوتی ہے انھی کی وجہ سے مجھے بھی کافی اچھی کتابیں پڑھنے کا موقع ملا اور میں نے یہ جانا کہ ادب سرحدوں کی قید سے کہیں ماوارا ہے اور ادیب بھی ۔ میں ذاتی طور پر اس بات پر فخر محسوس کرتاہوں کہ شاید کبھی عامر فراز جیسے نہایت عمدہ تخلیق کار کا معاصر کہلوا سکوں ۔ اب تقریبا دو سال سے عامر فراز ادبی منظر نامے سے عنقا ہو چکے ہیں کسی ادبی محفل کا حصہ نہیں ہوتے ۔ شاید کسی حد تک معقول وجوہات کی بنا پر اپنے دیرینہ دوستوں سے ان کا دلبرداشتہ ہونا بنتا بھی تھا۔عامر فراز کہانیاں لکھ رہے ہیں اور یقیناً وہ ایک ذمہ دار لکھاری ہیں ان سے ہمیشہ اچھی کہانیوں کی توقع کی جاتی ہے جس پر وہ پورا اترتے ہیں۔ ان کی کہانی حلقے میں تنقید کے لئیے رکھی جاتی تو حلقہ ارباب ذوق میں پاوٗں دھرنے کو جگہ نہیں ملتی تھی۔ آج دو سال ہوئے کہ عامر نے حلقہ سے منہ موڑ لیا ہے۔ میں جب بھی حلقے میں گیا اور کسی نئے چہرے کو دیکھا تو مجھے اس میں اپنا آپ دکھا اور عامر فراز کو یاد کیا جو اب وہاں موجود نہیں ہوتا۔






مصنف کے بارے میں


...

مافات رضا

09may - 1992 | Chichawatni


..................................




Comments