سمندر کے اس پار



پردیس کی گہما گہمی میں بستا ہوا شخص کتنا تنہا ہے،
تمہیں یہ سمجھنے میں آدھی عمر لگے گی اور پورا سفر
یاد کرنا مجھے جب ماں تمہاری پیشانی چومے
اور جب اپنے سب لوگوں میں بیٹھ کر تمہارا دل جھومے
کسی کے مرنے کسی کے جینے کا ایک اک کر کے پتا لگتا رہا
انجانے لوگوں سے، باتوں میں، ہاتھوں سے وقت پھسلتا رہا
مرضی سے آ سکتے هیں نہ مجبوری سے جا سکتے هیں
هم.پردیس میں صبر کا کڑوا پھل هی کھا سکتے هیں
اٹھتے گھونگٹ بیٹھتی قبریں کبھی کبھی رلاتی ہیں
یاد رکھنا همیں جنهیں ائیر لائنیں بھول جاتی هیں






مصنف کے بارے میں


...

معید مرزا

18 December 1990 - | Dera Ghazi Khan, Punjab


معید مرزا




Comments