دائروں میں تجسس بھرے آئینے



 میں اپنے تصور کی ویران بانہوں میں تیرے بدن کے حسیں لمس تک کیسے پہنچوں گا دوست

کہ میں رائیگاں پیڑ کی چھاؤں میں بیٹھا تیرے لیے کھولتا ہوں تجسس کے سب دائرے

دائرے جن میں کتنے ہزار آئینوں میں کروڑوں ہیں چہرے چھپے

آئینوں میں یہ چہرے کسی اور صورت میں کیوں آرہے ہیں نظر

اور نظر میں جو منظر ہیں ان میں طلسمات کس نے بھرے

یہ طلسمات منظر میں اس کو دکھاتے چھپاتے ہٹاتے ہیں کیوں

میں نے کھولے تجسس کے  پھر سے سبھی دائرے

اب یہاں دائرے رہ گئے ہیں اور ان میں ہیں بے حد ہی کم آئینے

منظروں سے ہٹائی ہوئی دھول کھانے لگی ہے طلسمات سب

اب مجھے وہ نظر آرہی ہے سو میں اس بدن کے حسیں لمس میں کھو گیا سو گیا ہوں تجسس میں لپٹا ہوا دائروں کو بجھاتے ہوے آئینوں کو ہٹاتے ہوئے






مصنف کے بارے میں


...

وصاف باسط

?? ??? ???? - | کوئٹہ





Comments