منظر



جھُکا یا  سر  میرا  یادوں  کے ملبوں نے

تھی طاقت لفظوں میں زیادہ قلبوں سے

بیاں  کر  رہا  ہوں  اِک  منظرِ سفر  میں

پیار  کو  بِنا  یار  کے  بقیا  نقطوں  سے

 نقطے  پ  کے عجب  مست  تھے  مگن

شر کے نقطوں نے جو جکڑا محبتوں سے

نم آنکھوں میں  رقص  کرتا  جام بھی

جا مِلا اپنی دُھن میں سیاہ لبوں سے

چھن چھن نے پائیلوں کی مارا عُمیر کو

شہر  بَنا  مقتل  زیادہ  کئ  حلبوں سے         

عُمیر صدیقی






مصنف کے بارے میں


...

عمیر صدیقی

- | Dera Ghazi Khan


نئے انداز سے بھرپور، جدید اور خوبصورت لب و لہجے کے نوجوان شاعر عمیر صدیقی پنجاب کے شہر ڈیرہ غازیخان میں پیدا ہوۓ۔ ابتدائ زندگی والدین کے ساتھ سعودی عرب میں بسر کی۔ آج کل پائلٹ کی تربیت حاصل کر رہے ہیں اور لاہور میں مقیم ہیں۔




Comments