صراحة




جی کی گھٹن کو غباروں میں بھر کے
روانہ کرو ایسی منزل کی جانب...

وہ جس سے ملے تم کو صدیاں ہوئی ہیں
لکھو اس کو میسج میں یہ ساری باتیں
وہ کیمپس کے دن اور ہاسٹل کی راتیں
کرو چاہت غصہ، نکالو تو گالی
(وہ اب بھی ہے ویسی یا بدلی ہے سالی!)

کسی بات کی کوئی ٹینشن نہیں ہے
تمہار پتا اس کو چلنا نئیں ہے
مگر جب ملو اس سے، ہنسنا نئیں ہے
 





مصنف کے بارے میں


...

رحمان راجہ

10-10-1996 - | Gujrat


گجرات سے تعلق رکھنے والے نوجوان شاعر۔جامعہ گجرات کی ادبی تنظیم قلمکار کے جنرل سیکرٹری اور ادبی سرگرمیوں میں سرگرم ہیں۔




Comments