ہمیں دفن کر دو




بات مانو۔ ہمارا یہ اک آخری کام کر دو۔ہمیں دفن کر دو
چُپکے سے، بین کرتی ہوئی عورتو اور مردو۔ ہمیں دفن کر دو

فرق پھرمرنے اور جِینے میں؟ ظلم کی رات کےمشتعل سینے میں
خالی قبریں نہیں۔ سینے کے گھائو ہیں۔ گھائو بھر دو۔ہمیں دفن کر دو

اُجلےکپڑے،سنہری حروف اورہرے پات، خاکِ شفا۔۔کم پڑیں گے
سب سے اُوپر ہماری ہلاکت کا الزام دھَر دو۔ ہمیں دفن کر دو

کتنی تیزی سےچینل بدلتےہوئے لوگ تابوت والوں سے اُکتا چُکے ہیں
ریڈیو، ٹی وی، اخبار کو ایک تازہ خبر دو۔ ہمیں دفن کر دو

خوں بہا چاہتے ہو؟ فضا اَمن کی ،دور انصاف کا چاہتے ہو؟
اتنے خوش بخت! کیاتم خدا ہو؟ ارے خواب گَردو! ہمیں دفن کر دو!






مصنف کے بارے میں


...

ادریس بابر

1974 - |


گوجرانوالہ پاکستان میں پیدا ہونے والے لکھاری نے انجینئرنگ یونیورسٹی لاہور سے الیکٹریکل انجینئرنگ کی. پہلا شعری مجموعہ "یونہی" ۲۰۱۲ میں شائع ہو سکا جسے فیض احمد فیض ایوارڈ سے نوازا گیا۔ اکادمی ادبیات پاکستان کے لیے پاکستانی ادب کے سالانہ انتخاب سمیت پاکستانی نظم کا ستر سالہ انتخاب مرتب کیا. مجلس ترقی ادب لاہور کے لیے اردو غزل کے ستر سالہ انتخاب کی تدوین کی. متعدد زبانوں اور اصناف میں شاعری آور تراجم کے ساتھ ساتھ بابر نے عشرے کی صنف متعارف کرائی جسے بطور خاص جدید ترین لکھنے والوں کی نسل میں قبول عام حاصل ہوا.




Comments