ہمارے نام، بس اک خالی جام! اگر ہے بھی!



یہ کون دل میں الگ چھپ کے چپکے بیٹھا ہے
کسی سے کہتا نہیں کوئی کام اگر ہے بھی

ندی سے اُٹھ کے گَرَاں جا بسا تھا یورپ میں
کسی کو یاد کہاں اس کا نام اگر ہے بھی

تو شور- شہر کا ، اَس لہر بہر کا مطلب
سکوت ہو نہیں سکتا، کلام اگر ہے بھی

یہ آئی ٹَینْ نہیں، اسلام آباد ہے، پیارے!
نظر کہیں نہیں پڑتی، عوام اگر ہے بھی

نئے برس پہ .... کوئی انتظام اگر ہے بھی
ہمارے نام، بس اک خالی جام! اگر ہے بھی





مصنف کے بارے میں


...

ادریس بابر

1974 - |


گوجرانوالہ پاکستان میں پیدا ہونے والے لکھاری نے انجینئرنگ یونیورسٹی لاہور سے الیکٹریکل انجینئرنگ کی. پہلا شعری مجموعہ "یونہی" ۲۰۱۲ میں شائع ہو سکا جسے فیض احمد فیض ایوارڈ سے نوازا گیا۔ اکادمی ادبیات پاکستان کے لیے پاکستانی ادب کے سالانہ انتخاب سمیت پاکستانی نظم کا ستر سالہ انتخاب مرتب کیا. مجلس ترقی ادب لاہور کے لیے اردو غزل کے ستر سالہ انتخاب کی تدوین کی. متعدد زبانوں اور اصناف میں شاعری آور تراجم کے ساتھ ساتھ بابر نے عشرے کی صنف متعارف کرائی جسے بطور خاص جدید ترین لکھنے والوں کی نسل میں قبول عام حاصل ہوا.




Comments