پھول




میں اسے کوٹ کے کالر میں سجا سکتا ہوں
اس کی خوشبو میں کئی عمریں بتا سکتا ہوں
پهول ہے .. کل نہ سہی پرسوں یہ مرجهائے گا
ایک زائر ہے جو کیمپس سے چلا جائے گا
پہلے جیسی بهی رہی ہو گی مگر آج کے بعد
خوبصورت نہ سہی .. زندگی .. بے رنگ نہیں
تخت کیا شے ہے محبت کے امر تاج کے بعد
عشق ہے، عشق سے بڑهہ کر کوئی نیرنگ نہیں
جیسے میں وقت سے آگے ہی تو جا سکتا ہوں
جیسے / جب چاہوں .. اسے پاس بلا سکتا ہوں





مصنف کے بارے میں


...

ادریس بابر

1974 - |


گوجرانوالہ پاکستان میں پیدا ہونے والے لکھاری نے انجینئرنگ یونیورسٹی لاہور سے الیکٹریکل انجینئرنگ کی. پہلا شعری مجموعہ "یونہی" ۲۰۱۲ میں شائع ہو سکا جسے فیض احمد فیض ایوارڈ سے نوازا گیا۔ اکادمی ادبیات پاکستان کے لیے پاکستانی ادب کے سالانہ انتخاب سمیت پاکستانی نظم کا ستر سالہ انتخاب مرتب کیا. مجلس ترقی ادب لاہور کے لیے اردو غزل کے ستر سالہ انتخاب کی تدوین کی. متعدد زبانوں اور اصناف میں شاعری آور تراجم کے ساتھ ساتھ بابر نے عشرے کی صنف متعارف کرائی جسے بطور خاص جدید ترین لکھنے والوں کی نسل میں قبول عام حاصل ہوا.




Comments