مارکس انہیں مار کر مرے گا



چھین لی گئیں کتابیں، جلا دیے گئے اخبار
دھکے دیے گئے اسے ایک سے دوسرے ملک
وہ کوئی پیغمبر تھوڑی تھا!

پڑھ لکھ کر نزدیک کے چشمے میں آب۔حیات کم پڑنے لگا تھا
پھر بھی ہزار ہا میل دور برپا جنگ پر گہری نظر تھی اس کی
جسے آقاوں نے جیت کر غدر کا نام دیا، غلاموں نے تسلیم کیا

رنگ، نسل، یا مذہب .. سرماے کی کوئی بھی شکل ہو
افضل جاننے والے ظالم، ماننے والے مظلوم
ڈرتے ہیں .. مارکس انہیں مار کر مرے گا
وہ کوئی خدا تھوڑی ہے!






مصنف کے بارے میں


...

ادریس بابر

1974 - |


گوجرانوالہ پاکستان میں پیدا ہونے والے لکھاری نے انجینئرنگ یونیورسٹی لاہور سے الیکٹریکل انجینئرنگ کی. پہلا شعری مجموعہ "یونہی" ۲۰۱۲ میں شائع ہو سکا جسے فیض احمد فیض ایوارڈ سے نوازا گیا۔ اکادمی ادبیات پاکستان کے لیے پاکستانی ادب کے سالانہ انتخاب سمیت پاکستانی نظم کا ستر سالہ انتخاب مرتب کیا. مجلس ترقی ادب لاہور کے لیے اردو غزل کے ستر سالہ انتخاب کی تدوین کی. متعدد زبانوں اور اصناف میں شاعری آور تراجم کے ساتھ ساتھ بابر نے عشرے کی صنف متعارف کرائی جسے بطور خاص جدید ترین لکھنے والوں کی نسل میں قبول عام حاصل ہوا.




Comments