عشرہ... اک دھوپ تھی، سو دھوپ کے سائے ہوئے دشمن




اک دھوپ تھی، سو دھوپ کے سائے ہوئے دشمن
ٹلتے ہیں کہاں اپنے بنائے ہوئے دشمن
اک عمر کی خاموشی کسی کام نہ آئی
اک بات پہ سب اپنے پرائے ہوئے دشمن
یہ دھوپ میں بارش کا سماں روز کہاں پھر
یہ منتوں مرادوں سے منائے ہوئے دشمن
یہ چائے ہے، یہ رائے، پسند آئے نہ آئے
اے مجھ سے ملاقات کو آئے ہوئے دشمن
لاشے، سرِ میدان، سہارے سے کھڑے ہیں
دشمن کو ہے سینے سے لگائے ہوئے دشمن





مصنف کے بارے میں


...

ادریس بابر

1974 - |


گوجرانوالہ پاکستان میں پیدا ہونے والے لکھاری نے انجینئرنگ یونیورسٹی لاہور سے الیکٹریکل انجینئرنگ کی. پہلا شعری مجموعہ "یونہی" ۲۰۱۲ میں شائع ہو سکا جسے فیض احمد فیض ایوارڈ سے نوازا گیا۔ اکادمی ادبیات پاکستان کے لیے پاکستانی ادب کے سالانہ انتخاب سمیت پاکستانی نظم کا ستر سالہ انتخاب مرتب کیا. مجلس ترقی ادب لاہور کے لیے اردو غزل کے ستر سالہ انتخاب کی تدوین کی. متعدد زبانوں اور اصناف میں شاعری آور تراجم کے ساتھ ساتھ بابر نے عشرے کی صنف متعارف کرائی جسے بطور خاص جدید ترین لکھنے والوں کی نسل میں قبول عام حاصل ہوا.




Comments