عشرا...زندہ قوم



عشرا // زندہ قوم

ہماری مائیں عربی سواروں کے سموں تلے کچلی گئیں
خود سے بدلہ لینے کے لیے ہم نے انہیں باپ مان لیا

زبانیں ہماری، عجمی عیاروں نے زہر خند خنجروں سے گل کر دیں
ہمیں رومان، تصوف سمیت، ضلع جگت کی ہر شکل تعلیم کی

بچھ بچھ گئی ہماری دھرتی ترکی غلاموں کے آگے
آداب-نشست و برخاست ہم نے انہی سے تو سیکھے

اب کہ ہم قصہ خوانی/حسین آگاہی میں مجلس پڑھتے ہیں
جب کہ ہمارے بیٹے امریکہ یورپ میں بزنس/لا ایڈمنسٹریشن
ہمارے پوتوں کو ہمارے فرسٹ نیم مشکل سے یاد ہوں گے
خدا کے فضل سے وہ آبائی رسومات میں شاد آباد ہوں گے






مصنف کے بارے میں


...

ادریس بابر

1974 - |


گوجرانوالہ پاکستان میں پیدا ہونے والے لکھاری نے انجینئرنگ یونیورسٹی لاہور سے الیکٹریکل انجینئرنگ کی. پہلا شعری مجموعہ "یونہی" ۲۰۱۲ میں شائع ہو سکا جسے فیض احمد فیض ایوارڈ سے نوازا گیا۔ اکادمی ادبیات پاکستان کے لیے پاکستانی ادب کے سالانہ انتخاب سمیت پاکستانی نظم کا ستر سالہ انتخاب مرتب کیا. مجلس ترقی ادب لاہور کے لیے اردو غزل کے ستر سالہ انتخاب کی تدوین کی. متعدد زبانوں اور اصناف میں شاعری آور تراجم کے ساتھ ساتھ بابر نے عشرے کی صنف متعارف کرائی جسے بطور خاص جدید ترین لکھنے والوں کی نسل میں قبول عام حاصل ہوا.




Comments