بے موسم بارش میں




شہر کا موڈ افسانوی + رومانوی ہو جاتا ہے
 مضافات کی بجلی دھک سے رہ جاتی ہے

ایکسٹرا ہوشیار بنتے ہیں سٹوڈنٹ، مولوی اور چوکیدار
ری لیکس ہو جاتے ہیں بھیڑیے، الخنزیر اور گلدار

مزید ٹھنڈی آہیں بھرتے ہیں مفرور مقہور شاعر
اپنے مغرور، نشے میں چور محبوبوں کی خاطر
سگرٹ سلگاتے پھرتے ہیں جو ہرقماش تاجروں کے

انگوچھے سے نو-بنجر آنکھیں ڈھانپ لیتا ہے کسان  
پکے ہوے کھیت بھر ڈوبی ہوئی فصل دیکھ کر
اور بھول جاتا ہے ہمارے ساتھ سیلفی کھنچوانا





مصنف کے بارے میں


...

ادریس بابر

1974 - |


گوجرانوالہ پاکستان میں پیدا ہونے والے لکھاری نے انجینئرنگ یونیورسٹی لاہور سے الیکٹریکل انجینئرنگ کی. پہلا شعری مجموعہ "یونہی" ۲۰۱۲ میں شائع ہو سکا جسے فیض احمد فیض ایوارڈ سے نوازا گیا۔ اکادمی ادبیات پاکستان کے لیے پاکستانی ادب کے سالانہ انتخاب سمیت پاکستانی نظم کا ستر سالہ انتخاب مرتب کیا. مجلس ترقی ادب لاہور کے لیے اردو غزل کے ستر سالہ انتخاب کی تدوین کی. متعدد زبانوں اور اصناف میں شاعری آور تراجم کے ساتھ ساتھ بابر نے عشرے کی صنف متعارف کرائی جسے بطور خاص جدید ترین لکھنے والوں کی نسل میں قبول عام حاصل ہوا.




Comments