انسانوں کا گیت



شکا گو کا ہو یا اوکاڑے کا، اوسلو کا یا باڑے کا
ہاڑ کی گرمی کا ہمسایہ، بیلی ماگه کے جاڑے کا
ہم مزدور کے ساته ہیں، ہم مزدور کے ساته ہیں

ملے نہیں جس دن دیہاڑی پهر وہی روز قیامت
شانے سانس کے بوجه سے شل، شب اک بھاری ندامت
اس مجبور کے ساته ہیں، ہم مزدور کے ساته ہیں

دوسرے پہنیں اس کے گہنے، سب کهائیں، وہ تنہا بوئے
فائدے اس کے میں سبهی ساجهی، گهاٹا اسی کا ہوئے
کس میں دم خم اس غیور کے ساته ہنسے یا روئے
تهکن سے چور کے ساته ہیں، ہم مزدور کے ساته ہیں






مصنف کے بارے میں


...

ادریس بابر

1974 - |


گوجرانوالہ پاکستان میں پیدا ہونے والے لکھاری نے انجینئرنگ یونیورسٹی لاہور سے الیکٹریکل انجینئرنگ کی. پہلا شعری مجموعہ "یونہی" ۲۰۱۲ میں شائع ہو سکا جسے فیض احمد فیض ایوارڈ سے نوازا گیا۔ اکادمی ادبیات پاکستان کے لیے پاکستانی ادب کے سالانہ انتخاب سمیت پاکستانی نظم کا ستر سالہ انتخاب مرتب کیا. مجلس ترقی ادب لاہور کے لیے اردو غزل کے ستر سالہ انتخاب کی تدوین کی. متعدد زبانوں اور اصناف میں شاعری آور تراجم کے ساتھ ساتھ بابر نے عشرے کی صنف متعارف کرائی جسے بطور خاص جدید ترین لکھنے والوں کی نسل میں قبول عام حاصل ہوا.




Comments

  • noimage cimg

    Faizan Hashmi

    umda

  • noimage cimg

    Mirza Mueed Ahmad

    Shukria