سیلاب



سمت نما کی سوئی شاید

مشرق مغرب گھوم گئی ہے
دریا رستہ بھول گیا ہے
کچی پکی دیواروں نے اپنے نتھنے بھینچ لیے ہیں
ہجرت کیا ہے
گھر کا کچھ سامان بچا لینے کی کوشش
کچھ بھی نہیں تو جان بچا لینے کی خواہش
بچ بھی گیا تو ملاحوں کو کیا دوں گا
دریا تیرے سمت نما کی ایسی تیسی
اپنا رستہ ناپ لے ورنہ گالیاں دوں گا






Comments