دھندھواں



پرندے شہر کے خدا جانے کدھر گئے ہیں
چڑیا گھر میں البتہ چھ جانور مر گئے ہیں
علما نے اپنا دھرنہ چوک میں سے لپیٹ لیا ہے
اجتماع الحمدللہ دعاؤں سمیت سمیٹ لیا ہے
کھمبوں کے انسولیٹر نہلائے گئے، بجلی شرما گئی ہے
میٹرو ٹرین، ٹرینوں کے گودام میں آ گئی ہے
باقی سب چل رہا ہے پیٹرول ڈیزل جل رہا ہے
سانس جیسے تیسے ہولے ہولے اچھا برا نکل رہا ہے
دھند کے دھوکے سے کچھ دیر کو انحراف ہو سکتا ہے
سردی میں مچھلی دبا کے کھانے سے مطلع صاف ہو سکتا ہے






Comments