ہمراہی



میں جس بس میں بیٹھا ہوں ، مقامی لوگ اسے بھٹی ٹائم کہتے ہیں۔ شائد اس کی وجہ یہ ہے کہ آج سے کچھ بیس پچیس سال قبل جب اس طرح کی پہلی ہینو بس "ہمراہی" اس سڑک پہ چلی تھی تو اُس کے مالک کا نام امیر بھٹی تھا۔ یہ بس تو کسی بلوچ کی ہے لیکن کہلاتی ہے "بھٹی ٹائم" ہی۔ خیر، نام میں کیا رکھا ہے۔ ضلع کے صدر مقام سے میرے گاوں کی طرف جانے والی یہ بس ۷۵ کلو میٹر کا فاصلہ تین گھنٹے میں طے کرتی ہے۔اگر سیٹ مل جائے تو ان تین گھنٹوں میں میری کوشش ہوتی ہے کہ مطالعہ ہی کر لیا جائے لیکن آج مجھے جگہ نہیں ملی تھی لہٰذا دروازے کے ساتھ،چھت سے فرش کے درمیان نصب آہنی ڈنڈے سے لگ کے کھڑا چہرے پڑھ رہا ہوں۔
میں یہ جاننے کیلئے بھی چہرے پڑھتا ہوں کہ جب میں آخری بار گاؤں گیا تھا ،تب سے اب تک لوگوں کی زندگیوں میں آنے والا تغیر کس طرح اُن کے چہروں سے عیاں ہوتا ہے؟ مثلاً سجاد نام کا وہ ترکھان جو کہ روز بروز سرمایہ اکٹھا ہو جانے کے باعث علاقے میں معزز تر ہوتا جارہا ہے، آخری بار بس میں نظر آیا تھا تو اُس کا رنگ پہلے سے زیادہ گورا ہوچکا تھا، چہرے کے تاثرات میں شائستگی آگئی تھی اور چہرے کا حجم تو اتنا بڑھ گیا تھا کہ اُسکی دو ٹھوڑیاں اور چار رُخسار ہو گئے تھے۔ اب سُنا ہے اُس نے اپنی گاڑی لے لی ہے۔ آج آخری سیٹ پر کھڑکی کی جانب گم سم بیٹھاشمشیر علیخاں اب پھر ضلع کچہری سے سلیم سیال کے قتل والے مقدمے کی پیشی بھگت کر آرہا ہے۔ جوں جوں قتل کے مقدمے میں اس کی زمین بکتی جارہی ہے، اس کی مشہورِ زمانہ مردانہ وجاہت ڈھلتی جارہی ہے۔پچھلی بار اس کی مونچھ کا خم گرا ہوا پایا تھا، آج بس میں سوار ہوتے ہی میں دیکھ کر چونک گیا کہ اب سردار صاحب کی مونچھ لمبائی بھی گھٹ کر ایک عام آدمی کی سی رہ گئی ہے اور شیو اتنی بڑھی ہوئی کہ سفید ڈاڑھی دور سے نظر آرہی ہے۔
لیکن میری زیادہ توجہ پہلے بھی نوجوانوں کی طرف ہوتی ہے اور آج بھی اُنہی کو کھڑا دیکھ رہا ہوں۔ایک کُھد بُد سی جو اکثر گاوں جانے والی بس میں سفر کے دوران ہی میرے دماغ میں ہوتی تھی، آج ایک مفروضے کی صورت میرے شعور کی سطح پہ اُبھری ہے تو اب میں اسے عملی طور پر پرکھ رہا ہوں۔ بات یہ ہے کہ اس پسماندہ دیہات سے شہروں کو سدھار جانے والے تعلیم یافتہ لڑکے اس سفر میں ایک دوسرے کیلئے اجنبی کیوں ہو جاتے ہیں؟ میرے علاقے کے دیہات میں کیا ہے کہ ہم سب لڑکے چھورے اور نوجوان ہی اس سفر میں ایک دوسرے سے نظریں چُرا کر اپنی اپنی نشستوں یا کھڑے ہونے کے گوشوں میں دبکے ہوتے ہیں۔ صحرائے تھل کی جُھلسا دینے والی گرمی اور کھڑکیوں سے اندر آتے گرم ریت کے تھپیڑوں کے باوجود سارے دیہاتی چہک چہک کر بلند آوازوں میں ایک دوسرے سے گپیں ہانکے جارہے ہیں اور بس چیونٹی کی طرح رینگتی جارہی ہے۔اُن تھل باسیوں میں سے کسی کو گھر پہنچنے کی اتنی جلدی نہیں ہے جتنی ہم شہر سے لوٹنے والے تعلیم یافتہ لڑکوں کو۔ ساتھ بیٹھے لوگ ہم سے کم ہی باتیں کرتے ہیں ، شاید وہ ہم سے مرعوب ہیں یا پھر ہم سے بے نیاز۔
ایسے میں مجھے ہمت نہیں پڑ رہی کہ میں کھڑکی کے ساتھ والی سامنے کی نشست پہ بیٹھے وحید علی سے نظریں ہی چار کر لوں جو کہ لاہور شہر میں نوکری کرتا ہے اور میری طرح اب وہیں سے آرہا ہے۔وہ مُجھ سے بھی سو ا بوکھلاہٹ سے مجھے نظر انداز کررہا ہے۔دلچسپ بات یہ ہے کہ ماضی میں ہماری کوئی مخالفت نہیں رہی۔اب ہم نظریں کیوں چُرا رہے ہیں؟اس کی یہی وجہ ہے کہ وہ شہر کے ایک معمولی اخبار میں کام کرتا ہے، کیا کام کرتا ہے، مجھے نہیں معلوم۔اور وہ شاید اسی لئے مجھ سے ملنے سے کتراتا ہے کہ میں شہر کے ہر بڑے چھوٹے اخبار اور اس کے صحافیوں کی "اوقات"سے واقف ہوں۔ ادھر میں خود بھی شاید اس لئے اس سے کترا رہا ہوں کہ شہر میں مَیں جس سماجی "تحریک " سے وابستہ ہوں، اُس کی اصلیت صحافیوں سے بہتر کون جانتا ہوگا۔ ہم دونوں کو یاد ہے کہ ایم۔اے کے امتحان پاس کرنے کے بعد بابا علی خاں کے ڈیرے پر بیٹھ کر ہم اہلِ دیہہ کے سامنے کیا کیا بڑیں ہانکتے تھے۔
آگے کی سیٹ پہ بیٹھا خالد ہمارے گاؤں کے پرائمری اسکول سے پڑھنے والوں میں واحد ایم۔ایس ۔سی پاس لڑکا ہے۔وہ ایک انتہائی غریب جولاہے کا بیٹا ہے جسے کوئی سیدھے نام سے نہیں پکارتا۔ہم دونوں تین سال سے ایک ہی شہر میں نوکری کر رہے ہیں لیکن ہم کبھی ملے نہیں ۔وہ مجھے ناپسند کرتا ہے کیونکہ نمبرداروں کا لڑکا ہونے کی وجہ سے لڑکپن میں مَیں اُسے حقارت کی نظر سے دیکھتا تھا۔ایک اتفاقی ملاقات میں اُس نے بتایا تھا کہ اب وہ کسی سرکاری ادارے میں ایڈہاک پہ افسری کررہا ہے۔ لیکن اب وہ مجھے ملنا نہیں چاہ رہا۔ میں اُسے اس لئے نہیں ملتا کہ وہ نمبرداری کا بھرم اب ایسا کُھلا ہے کہ اب مجھے اُس کا سامنا کرنے کی بھی ہمت نہیں ہے ۔خُدا کا شُکر ہے کہ شہر کی سڑکوں کی خاک پھانکتے ہوئے کبھی ہمارا آمنا سامنا نہیں ہوا۔وہ ڈرائیور سے پچھلی سیٹ پر بیٹھا ہے اور کانوں میں آئی پوڈ کا ہیڈفون لگا کر نجانے کیا سُن رہا ہے۔ اُس نے کئی بار پیچھے مُڑ کر دیکھا ہے تو ہماری آنکھیں چار ہوئی ہیں لیکن ہم دونوں بہت غیر محسوس انداز میں ایک دوسرے کو نظر انداز کر گئے۔
میرے ساتھ کی سیٹ پر جو لڑکا بیٹھا ہے یہ اس وقت نوجوانوں میں سب سے خوش پوش ہے ۔ اس نے تو نکٹائی بھی لگا رکھی ہے۔شاید قیصر حُسین نام ہے اس کا یا پھر قیصر علی۔ ایف ۔اے میں میرا شاگرد تھا۔ بی ۔اے کے فائنل امتحانوں میں فیل ہو کر لاہور چلا گیا تھا۔لاہور میں ہماری پہلی مُلاقات بہت ناگوار رہی تھی۔ پولیس میں بھرتیاں ہو رہی تھیں، میں ان دنوں ایک نوکری سے نکال دیئے جانے کے بعد لاہور میں تلاشِ معاش کیلئے مارا مارا پھر رہا تھا، سو بھرتی کی قطار میں جا لگا۔جب میل کی دوڑ ہونے لگی تو قیصر سے میرا آمنا سامنا ہوا۔ "ارے تُم؟؟"اُس نے مُجھے دیکھتے ہی بے تکلفی سے میرے پہلو میں اُنگلی چبھو کر کہا۔کلاس روم کے سامنے کھڑا ہو کر انگریزی میں اونچے اونچے آدرشوں کے بھاشن دینے والا اُستاد آج اپنی ایم۔اے ، بی۔ایڈ اور پتہ نہیں کس طرح کی ڈگریاں اور سرٹیفکیٹ بغل میں دابے اُسے اپنے ہمراہ دوڑتا ملا تو سارے تکلفات، احترامات اور بڑے چھوٹے کے امتیازات ختم ہو گئے۔ مجھے یوں لگا کہ میں ننگ دھڑنگ اپنے تمام شاگردوں کے سامنے ایک کھلے میدان میں بھاگا جارہا ہوں۔ہم دونوں قہقہے لگا کر ہنس دیئے تھے لیکن اس کے بعد میں کبھی چیئرنگ کراس کی طرف نہیں گیا جہاں بقول اُس کے ، اس این ۔جی ۔او کا دفتر تھا جس میں وہ کام کرتا تھا۔میرا یہ حجاب تب ختم ہوا جب میں نے اُسے بندُو خاں ریسٹورینٹ میں ویٹر طور پر کھانا لگاتے دیکھا۔اب ہم دونوں ایک دوسرے سے کتراتے ہیں۔
مہربان علی خاں صاحب کا اور میرا تعلق بھی کچھ ایسا ہی ہے جیسا میرا اور قیصر کا۔ خاں صاحب ہمیں ہائی اسکول میں ٹیچر انٹرنی کے طور پر انگریزی اور حیاتیات پڑھاتے تھے۔ خوش رُو، نوجوان اُستاد تھے اور انگریزی میں پورے علاقے میں ان کا کوئی ثانی نہیں تھا۔سول سروس کے امتحانات کی تیاری اور تدریس ساتھ ساتھ چلا رہے تھے۔ آج بھی ہم سے زیادہ جوان آدمی دکھائی دیتے ہیں۔سادہ لیکن باوقار فیشن کی پتلون قمیص پہنے اپنی برقع پوش نوعمر بیوی کے ہمراہ درمیان کی سیٹوں میں بیٹھے اخبار پڑھ رہے ہیں۔آج میں نے پہلی بار انہیں بڑھی ہوئی شیو کے ساتھ دیکھا ہے۔ ابھی سوار ہونے سے پہلے ہماری مختصر سی ملاقات ہوئی ہے۔سیاسی شعور والے اور بااصول آدمی تھے لیکن شادی کے فوراً بعد ،خلافِ مزاج ایک فوجی اسکول میں انگریزی کے سویلین اُستاد ہو گئے اور اس وقت اپنے قبیلے کے سب سے غریب آدمی ہیں۔میں ہمیشہ انہیں پسند کرتا تھا لیکن آج پہلی بار مجھے ان سے نفرت، یا بے زاری سی محسوس ہوئی جب اُنہوں نے مُجھ سے پوچھا "آج کل کس بیس پر سروس ہے؟"میں اُن کا سوال نہ سمجھ سکا، میں نے معذرت کی تو اُنہوں نے بتایا کہ انہیں میری ہمسائی نے بتا رکھا تھا کہ میں پائلٹ ہو گیا ہوں اور وہ یہ جان کر بہت خوش تھے کیونکہ انہیں اس امر کا یقین میری طالب علمی سے ہی ہو گیا تھا۔وہ مجھ سے ذیادہ بات کرسکے ناں ہی میں اُنکی غلط فہمی دور کر پایا۔اب مُجھے کچھ کچھ تو اچھا لگ رہا تھا کہ اُستادِ محترم کتنی حسین خوش فہمی میں ہیں اور اب یہ سوچ رہا ہوں کہ وہ مجھے کبھی نہ ملیں اور میں اُن سے کبھی بات نہ کروں۔
اظہر، عرف زکوٹا، گاڑی کا کنڈکٹر ، جو کہ کالج کےوقتوں میں مجھ سے کرایہ نہیں لیتا تھا کیونکہ اس کا کہنا تھا کہ میں جلد ہی تعلیم مکمل کرکے یہاں کا اے۔ایس ۔پی تعینات ہونے والا ہوں۔جان پہچان والے جوانوں میں وہ واحد شخص ہے جو اب بھی مجھے اسی احترام اور والہانہ پن سے ملتا ہے جو پہلے اس کے لہجوں میں تھا۔شائد اس نے مجھ سے اور میں نے اس سے کبھی کوئی جھوٹ نہیں بولا۔اُس نے ابھی میرے کان میں آکر سرگوشی کی تو میری توجہ شمشیر علیخاں کے دائیں جانب کسی بڑھیا کے ساتھ بیٹھی آہو چشم خاتون کی طرف گئی۔ لُبنیٰ خانم بچپن میں چند روز میری ہم جماعت رہی تھی۔کئی سال پہلے سُنا تھا کہ کراچی گئی تھی اور بہت اچھی تعلیم حاصل کر لی اُس نے۔ سال بھر پہلے پتہ چلا کہ بیاہی گئی ہے۔بعد کی زندگی پر شائداس کی پرہ نشینی نے پردہ ڈال دیا ہے، مُجھے کچھ خبر نہیں۔ مجھے خیال آیا کہ ہم سب لوگ اس کی طرح برقع کیوں نہیں پہن لیتے تاکہ ہم اپنے اپنے جھوٹ کے ساتھ، غلط فہمیوں کے ساتھ، اپنی ناکامیوں اور اپنی ناآسودہ خواہشات کے ساتھ باقی دُنیا کی نظروں سے بالعموم اور اپنے جیسوں کی نظروں سے بالخصوص روپوش ہو جائیں۔ہم دیہاتوں اور قصبوں سے پڑھ لکھ کر جب شہروں کو سدھارتے ہیں تو شائد ہم اپنے آپ کو اور اپنے ارد گرد کے لوگوں کو یہ اُمّید یا جھانسہ دے کر چلتے ہیں کہ ہم شہر جاکر بہت باعزت مقام پانے والے ہیں۔اس کے بعد ہم اس رخشِ خیال کی دُنیا میں خود کو مقید کرلیتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ کوئی دوسرا بھی قریب آ کر اس کا دروازہ نہ کھولے۔کیا معلوم وہ ہماری زخمی انا تک، کسی جھوٹ تک، کسی ناآسودہ خواہش تک اور کسی کچے گھڑے جیسے بھرم تک پہنچ جائے۔ہم اس رخشِ خیال کے پیچھے بھاگ بھاگ کر اپنی شخصیتوں کو کتنا مسخ کرلیتے ہیں۔۔۔
لیجے، اسی اُدھیڑ بُن میں ہماری منزلِ مقصود بھی آگئی۔تین گھنٹے کے سفر میں ہم سفروں سے گہری شناسائیاں بنا لینے والے دیہاتی، تھل باسی ایک دوسرے سے گرمجوشی سے مصافحے، سلام اور الوداعی کلمات کہہ کر بس سے اُترنے کو تیار ہیں۔ جبکہ وحید، خالد، قیصر، مہربان خاں صاحب ، مَیں اور چند اور خوش پوش جوان بھی، جو میرے گاؤں کے ہی ہیں اور میں ان کے نام نہیں جانتا –وہ بھی شائد یہی چاہتے ہیں- اپنے اپنے ڈبّوں میں بند کسی سے سلام سلیک کیے بغیر گاڑی سے اُترنے والے ہیں۔وہ انہی
ڈبّوں میں مقید "ویک اینڈ" گاوں میں گزار کر اسی بس میں سوار واپس شہر روانہ ہو جائیں گے۔
ہم ایک ہی کشتی کے مسافر ہیں اور ہماری منزل بھی یقیناً ایک ہی ہے لیکن ہمارے راستے الگ الگ ہیں ۔۔۔ ہماری اپنی اپنی بھول بھلیّاں ہیں۔۔۔






مصنف کے بارے میں


...

ذکی نقوی

3-8-1987 - | Thal Desert


زکی نقوی اُردو ادب اور انٹرنیشنل ریلیشنز کے گریجوایٹ ہیں۔ عملی زندگی کا آغاز فوجی کے طور پر کیا۔ کچھ عرصہ انسانی حقوق کے ادارے جسٹس پراجیکٹ پاکستان سے بھی وابستہ رہے اور پھر تدریس کا پیشہ اختیار کرلیا اور آج کل ائیر بیس انٹر کالج مصحف، سرگودھا میں پڑھا رہے ہیں۔ نو آموز لکھاری افسانوی ادب ، مضامین اور تراجم پر طبع آزمائی کرتے ہیں اور ان کی نگارشات آن لائن جریدے ‘‘لالٹین’’، ‘‘ہم سب’’ اور ‘‘ڈان اُردو’’جبکہ رسائل و جرائد سہ ماہی ‘‘آج’’، ماہنامہ ‘قومی ڈائجسٹ’، روزنامہ پاکستان (عسکری ایڈیشن) ، ماہنامہ ‘ہلال’ اور ہفت روزہ زندگی میں شائع ہو چکی ہیں۔




Comments