اِملی کا پیڑ



یہ بات اُن دِنوں کی ہے جب میری عمر تقریباً بارہ یا تیرہ سال تھی  ۔ گرمیوں کی چھُٹّیاں منانے میں اکثر ننھیال جایا کرتا تھا۔ مجھے نہ جانے بچپن سے ننھیال سے ایسا کیا لگاوٴ تھا کہ من کرتا تھا کہ وہیں اپنا وقت گزاروں۔ اپنے شہر کی چکا چوند یا آواز کی آلودگی سے ایسا محسوس ہوتا تھا جیسےمیں  کسی قفس میں رہ رہا ہوں۔ محض دس کلو میٹر  کی  دوری پر میرا ننھیال ہی  ایک ایسا مُقَدّس مقام تھا جہاں کی مَخملی زمین، شَفّاف ہوا اور خاموش سماں ذہن  میں آتے ہی  قلبیاِطمینان مُیّسر ہوتا تھا۔ 

 

نہ کوئی ہوم وَرک کی ٹینشن ، نہ کوئی  کام، بس کھاتے پیتے رہو اور خود میں  مَست رہو۔ ہر نظر جو مجھ پر پڑتی، شَفقَت اور مُسکراہٹ  لیے ہوتی ۔ ہر فردجیسے مجھے دیکھ کر خوش ہے   اور چاہتاہے کہ مُجھے اور خوش کر دے۔ کسی نے آج تک یہ نہ کہا کہ جاکر بَنیے کہ  ہاں سے فلاں چیز خرید لاوٴ۔ ہر کوئی  اُلٹا یہ پوچھتا کہ مُجھے کسی چیز کی

ضرورت تو نہیں ۔ ویسے تو وہاں ہر آنے جانے والے کی آوٴ بھگت ہوتی، لیکن مجھے ایسا لگتا کہ سب سے زیادہ میری ہی پذیرائی ہوتی تھی۔

 

وہاں  ہمیشہ کچھ نہ کچھ کھیلنے کا شُغل رہتا۔ اُس زمانے میں نہ تو اِنٹرنیٹ تھا، نہ  فیس بُک اور نہ ہی سمارٹ فون۔

 لیکن ایک لمحہ بھی بوریت کا اِحساس نہیں ہوتا تھا ۔ وہاں میرے اِتنے سارے  کَزَن تھے کہ سبھی  کے ساتھ باتوں میں آرام سے وقت گُزر جاتا۔مکان میں چھوٹے چھوٹے بچّوں کا ایک ہجوم تھا جِن کی غوں غوں اور چیں   پیں  سے طبیعت بہلتی رہتی۔چھَت کے اوپر سے پورے علاقے کا نظارہ ایسا دِلکَش معلوم ہوتا تھا جیسے پول سیزان(Paul Cézanne) یا کلود مونے (Claude Monet) کی کوئی پینٹِنگ ہو۔ جنوب میں قبرستان سے نِکلتا ہوا عالیشان ڈیڑھ سو سال پرانا ہرا گُنبَد   اور شمال میں کھیت کھلیان کے بیچ سے گزرتی ہوئی  ریل کی پَٹری نُمایاں تھیں۔ پرندے  تکونی  جُھنڈ میں  ایسے اُڑا کرتے تھے جیسے کوئی  چھوٹا طیّارہ ہو۔

 

دن ڈھلتے ہی طمانیت میں اِضافہ ہوجاتا۔ رات کی سیاہی میں خاموشی پورے علاقے کو اپنی لپیٹ  میں لے لیتی۔ عِشاء کے بعد اندھیرے کا یہ عالم تھا کہ کسی کا چہرہ نہ دِکھتا تھا۔ سبھی کے ہاتھوں میں موٹے موٹے ٹارچ رہتے ۔ جھینگر  کی گونجتی ہوئی  گُنگُناہٹ اِس اندھیرے میں کِلاسِیکَل موسیقی کا کام کرتی۔

 

میرے ننھیالی مکان سے بَمُشکِل دو یا تین مِنٹ کی دوری پر ایک مسجد تھی۔  وسیع رَقبے  میں بنی اِس مسجد میں اِنتہائی  کَشِش تھی۔ اذان میں ایسی مِٹھاس تھی کہ پاوٴں خود بخود مسجد کی طرف دوڑ پڑتے تھے۔ سبھی  کی رفتار مسجد کی طرف لَپَکنے میں  ایک ہی طرح کی تھی۔

 

کبھی کبھی میرے ذِمّے یہ ڈیوٹی ہوتی کہ میں اپنے نانا کے ساتھ ظہر اور عِشا ء میں اُن کے ہمراہ جاتا اور ان کے ساتھ واپس آجاتا۔ دراصل اُنھیں  گھر  کے  پتھریلے زینوں پر سے اُترنے کے لیے  اور مسجد کی چوکھٹ پر اپنا پہلا قدم رکھنے کے لیے سہارے کی ضرورت ہوتی۔ اُنکے ایک ہاتھ میں چھڑی ہوتی اور دوسرے ہاتھ کی ہتھیلی میری ہتھیلی پر رَکھ کر وہ اُترتے یا چڑھتے۔ اُنھیں اِس بات کی فکر  اکثر ہوتی کہ میری ہتھیلی اُن کے اِتنے وزنی جِسم کو کیسے سَنبھال  سَکتی ہے۔ میرے اندر نہ جانے کہاں سے  اتنی طاقت آجاتی کہ اُن کا وزن خود بخود سنبھل  جاتا۔ عِشا ء کی نماز مجھےسب سے زیادہ پسند تھی۔ اُس کی وجہ یہ تھی کہ عشا ءکی نماز کے بعد جب میں اور میرے کزن سُنّت اور وتر  سے فارغ ہو جاتے، تو پھر میں اپنے نانا  کا انتِظار کرتا اور وہ اپنے والد گرامی کا کہ اُن کی عبادت ختم ہو جائے۔ ہماری   رِکعتیں تو  منٹوں  میں ختم ہو جاتیں، لیکن اِن کی رِکعتیں بہت لمبی ہوا کرتی تھیں۔ بحر حال ہم نے غور کیا کہ ہمارے پاس پینتالیس مِنٹ اِنتظار کرنے کا وقت ہوتا تھا ۔ پھر کیا تھا، ہم مسجد کی باہری صحن میں چکّر لگاتے اور کسی موضوع پر گفتگو چھیڑ دیتے۔ کبھی کبھی چاند کی دُھندلی روشنی میں چمکتے چکنے سفید چبوترے پر ہم بیٹھ جاتے اور اگلے روز کا کوئی پروگرام بناتے۔

 

میرا یہ کزن مجھ سے تین یا چار مہینے بڑا ہوگا۔ گُندمی رنگ، مُنہ پر ہلکی ہلکی اُبھرتی رُوئیں، کھڑی ناک، آنکھوں پر پتلا  بھورے رنگ کا چشمہ اور گلے میں  ایک چھوٹا سا مُستطیلی سیّاہ تعویذ  لٹکتا رہتا۔ اگر ہم شہر والے کزنوں کو بغیر ٹوپی کے دیکھتا، تو فوراً ٹوکتا کہ یہاں ٹوپی پہننا لازمی ہے۔

 

ایک دن میں اپنے نانا کو جمعہ کی نماز میں لے کر آیا۔ نماز کے بعد میں مسجد کے سماع خانہ میں  اُن کا اِنتظار کر رہاتھا۔ چونکہ جمعہ کا  دن تھا، اس  لیےاندیشہ تھا کہ تیس پینتس مِنٹ اِنتظار کرنا ہوگا۔ میرا کزن بھی وہیں تھا، وہ بھی اپنے والد کے انتظار میں تھا۔ مُجھے دیکھتے ہی وہ میری طرف مُسکراتے ہوئے لپکا۔ آتے ہی مجھ سے کہا کہ "چلو ایک چکّر قبرستان کا لگا لیتے ہیں۔ اِن کی نماز ختم ہونے سے پہلے ہی ہم واپس آجائیں گے" ۔ قبرستان ہم بَچّوں کے لئے ایک پسندیدہ اسپاٹ تھا۔ ہر قدم پر ہرے بھرے گھنے پیڑوں  کے علاوہ ایک بہت بڑا تالاببھی  تھا۔ مدرسے کے

 لڑکے تالاب میں تیراکی کے نئے نئے کرتب دِکھاتے۔ قبرستان اتنا بڑا تھا کہ کئی بار جانے کےبعد بھی میں  اُس کے   بیشتر حِصّے  سے ناواقِف تھا۔

 

خیر، میرے کزن کا آئیڈیا  بُرا نہیں تھا۔ قبرستان صرف دو منٹ کے فاصلے پر تھا۔ اوپر سے اِس چِلچِلاتی دھوپ میں قبرستان کے تالاب اور گھنے پیڑوں کے بیچ چہل قدمی کا ایک الگ ہی لُطف تھا۔ قبرستان میں داخِل ہونے کےبعد، ہم کچھ مُقدّس قبروں کو سلام پیش کرتے ہوئے آگے بڑھے، تب میرے کزن نے ایک نئی پیشکش کر دی۔ "بتاوٴ تم نے کبھی اِملی چَکھی ہے " ؟

 

اِملی کا نام سُنتے ہی مُنہ اپنے آپ کھٹّا ہو گیا۔ میں نے پوچھا، "اِس بیچ قبرستان میں اِملی کھانے کہاں جائیں  گے" ؟

 

میرے کزن نے ہنستے ہوئے کہا،"کہیں جائیں گے نہیں، بَس تھوڑی  ہی دور پر ایک املی کا پیڑ ہے، وہیں سے توڑ کر کھائیں گے" ۔

 

میرا جی اِملی کھانے کو تَڑَپ اُٹھا۔

 

کُچھ ہی قدموں پر اِملی کا سیاہ لَمبا قُطُب نُما دَرَخت مِلا۔ اُس کے موٹے تنے  پر بے شُمار جُھریوں  سے گُماں ہوتا تھا کہ پیڑ بہت پرانا ہے ۔ میں نے نظر اوپر کی تو دیکھا کہ اِملی کے  گچھے  لَٹْک رہے ہیں ۔ پیڑ کے نیچے ہرے، زرد اور پژمردہ پتّوں کا جماوٴ تھا۔

 

کھٹّی شے  کا تو میں شوقین نہیں تھا، لیکن مُنہ میں جب کسی چَٹخارے کی لالَچ  پیدا  ہو جائے، تو پھر کیا کہنے۔ ہم دونوں نے وہیں سے کچھ کنکر  اُٹھائے اور شاخوں پر نِشانہ مارنا شروع کر دیا۔ میرے کزن کا نشانہ مجھ سے بہتر تھا۔ ایک املی سے بھری ہوئ شاخ چٹخ کر ہمارے سامنے  آ گِری۔ میرے کزن نے پہلے تو مجھے املی کے فوائد پر ایک چھوٹا سا لیکچر  دیا  پھر اُس نے مجھے املی کھانے کا طریقہ بتایا ۔

 

جب املی کھاکر طبیعت سیر ہو چکی، تب مجھے میرے نانا کی یاد آئی ۔ میں نے کزن کو کہا کہ اب کافی دیر ہو چُکی ہے، واپس چلنا چاہیے ۔ ہم دونوں مسجد کی طرف تیز قدموں سے لپکے۔ مسجد میں ہر طرف سنّاٹا تھا۔ یقیناً نانا

 جا چُکے تھے ۔ مجھے  اپنے اوپر کافی غُصّہ آیا۔ املی کے چکّر میں بہت بڑی کوتاہی ہو گئی ، کہیں کوئی  آفت نہ

 آجائے میرے اوپر۔  میرا رُواں رُواں کانپ رہا تھا۔

 

جب گھر پہنچا تو پھاٹک کی آڑ میں سے دیکھا کہ میرے نانا صحن کی چوکی پر بیٹھے تھے اور اُن کے سامنے سبھی لوگ خاموش تھے۔ جب میں اندر داخل ہوا، تب نانا نے والدہ سے کہا کہ "یہ پتہ نہیں کہاں چلے گئے تھے ؟ نماز ختم  ہونے کے بعد جب میں مسجد کی چوکھٹ پر آیا تو یہ نظر نہیں آئے۔ پھر  ایک مدرسے کے لڑکے کو اِشارہ کیا جس کے ساتھ میں گھر تک پہنچا" ۔

اَب میں کیا بتاتا  کہ میں کیا طُرفہ گُل کِھلا کر آ رہا ہوں۔

اُس دِن کے بعد سے میں آج تک املی کے پیڑ کے پاس دوبارہ نہیں گیا۔بلکہ  املی  کھانا  ہی تَرک کر دیا ۔






مصنف کے بارے میں


...

ڈاکٹر شاہ زماں حق

- |


ڈاکٹر شازماں حق انالکو فرانس، میں اردو کے پروفیسر اور شعبہ جنوبی ایشیا اور ہمالیہ کے نائب ڈائریکٹر ہیں۔ ان کی ریسرچ کثیر السانی، اور فیملی و اقلیت میں زبان کی حکمت عملی پر مشتمل ہے۔ افسانہ نگاری کے علاوہ فرانسیسی افسانہ کواردو : اور اردو افسانے کو فرنچ میں ترجمہ کرنے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔




Comments